Al-Risala · June 1992 · page 4

جنّت کی نعمتیں

الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۴

جنّت کی نعمتیں

اُکیدر بن عبد الملک الکندی (م ۱۲ھ) دومۃ الجندل کا عیسائی حاکم تھا۔ غزوہ تبوک (۹ھ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مقام کے قریب پہنچے تو وہ آکر آپ سے ملا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت اس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ مگر آپ کی وفات کے بعد وہ پھر گیا۔ خلیفہ اول کے زمانہ میں حضرت خالد بن الولید نے اس سے جنگ کی جس میں وہ مارا گیا۔

روایات میں آتا ہے کہ اُکیدر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آیا تو اس کے جسم پر نہایت شاندار لباس تھا۔ حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں :

رَأَيْتُ قِبَاءَ اُكَيْدِرِ حِينَ قَدِمَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللهِ میں نے اُکیدر کی قبا اس وقت دیکھی ہے جب صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ يَلْمَسُونَ کہ وہ اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بِأَيْدِيهِمْ وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْهُ فَقَالَ پاس آیا۔ مسلمان اس کی قبا کو اپنے ہاتھ سے چھونے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَتَعْجَبُونَ لگے اور اس پر تعجب کرنے لگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ مِنْ هَذَا ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیا تم لوگ اس پر تعجب کر رہے لَمُنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذِ فِي الْجَنَّةِ ہو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان اَحْسَنُ مِنْ هَذَا ۔

(البدایہ والنہایہ ۵ / ۱۷۲)

ہے ، بلاشبہ جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بھی زیادہ اچھے ہیں ۔

جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ابدی ہے اسی طرح آپ کا یہ کلام بھی ابدی ہے۔ آپ کا یہ قول صرف پہلی صدی ہجری کے ایک خوش پوش انسان کے بارے میں نہیں ہے بلکہ قیامت تک کی ان تمام دنیوی چیزوں کے بارہ میں ہے جن کی ظاہری رونق پر لوگ تعجب کریں اور جن کو دیکھنے والے رشک کی نظروں سے انھیں دیکھیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی جو چیزیں لوگوں کو آج بہت خوش نما نظر آتی ہیں ، جنت کی چیزیں ان کے مقابلہ میں بے حساب گنا زیادہ خوش نما اور پُر راحت ہوں گی۔ اس وقت آدمی کو محسوس ہوگا کہ جو کچھ اس نے کھویا وہ کچھ بھی نہ تھا، جب کہ اس نے جو کچھ پایا ہے وہ سب کچھ سے بھی بہت زیادہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues

Printed page