Al-Risala · June 1992 · page 8

جاننے کی تڑپ

الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۸

جاننے کی تڑپ

ایک حدیث ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انما شفاء ‌الْعِيِّ السؤال۔ یعنی جاہل آدمی کے جہل کا علاج سوال کرنا ہے۔ نا واقف آدمی اگر سوال نہ کرے تو اس کی نا واقفیت باقی رہے گی لیکن اگر اس کے اندر سوال کرنے کا مزاج ہو اور وہ دوسروں سے سوال کرے تو کوئی جاننے والا اس کو بتا دے گا، اور اس طرح اس کی بے خبری ختم ہو جائے گی۔ اسی مفہوم میں عربی کا ایک مقولہ ہے کہ : لا ادری نصف العلم۔ یعنی یہ جاننا کہ میں نہیں جانتا، یہ بھی آدھا علم ہے۔ ایک بے خبر آدمی اگر اپنی بے خبری سے لاعلم ہو تو وہ ہمیشہ لاعلمی میں پڑا رہے گا۔ لیکن جب وہ اس ذاتی دریافت تک پہنچ جائے کہ میں فلاں بات کو نہیں جانتا تو وہ اس کی کھوج میں لگ جائے گا۔ وہ اپنے لا ادری کو ادری بنانا چاہے گا۔ اس کا یہ جذبہ اس کو علم تک پہنچادے گا۔ اس کا بے آگہی کا احساس اس کو آگاہی تک پہنچانے کا زینہ بن جائے گا۔ موجودہ زمانہ میں اس کو روح جستجو (spirit of inquiry) کہا جاتا ہے اور اس کو بے حد اہمیت دی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ دور سائنس کو ظہور میں لانے والی چیز یہی اسپرٹ آف انکوائری (تلاش و جستجو کی روح) ہے۔ جستجو کی تڑپ نے آدمی کو یافت تک پہنچایا ہے۔ قدیم زمانہ میں انسان فطرت کے مظاہر کو خدائی مظاہر سمجھتا تھا۔ وہ ان کو خدائی کا درجہ دیے ہوئے تھا۔ اس لیے ان کو دیکھ کر اس کے اندر جو چیز جاگتی تھی وہ پرستش کی اسپرٹ (spirit of worship) تھی ۔ جب ان مظاہر کو خدائی کے مقام سے ہٹایا گیا تو اس کے بعد انسان کے اندر ان کے بارہ میں تحقیق و جستجو کی اسپرٹ (spirit of inquiry) جاگ اٹھی۔ اس کے نتیجہ میں تمام حقائق فطرت دریافت ہوئے۔

سوال کا مزاج اور تحقیق کا مزاج تمام فکری اور علمی ترقیوں کا زینہ ہے۔ وہی لوگ علم و فکر کی راہ میں بڑی ترقیاں حاصل کرتے ہیں جن کے اندر یہ روح موجود ہو۔ جو لوگ اس روح سے خالی ہوں وہ جامد بن کر رہ جائیں گے۔ وہ ترقی کی اعلیٰ منازل طے نہیں کر سکتے۔ یہی مزاج تمام علمی ترقیوں کی بنیاد ہے۔

8 | رسالہ جون ۱۹۹۲

‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues

Printed page