Al-Risala · June 1992 · page 10

مواقع کھونا

الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۱۰

مواقع کھونا

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ ان کی عمر زیادہ نہ تھی ۔ مگر ان کا سوکھا چہرہ اور لاغر جسم بتا رہا تھا کہ وہ قبل از وقت بوڑھے ہو گئے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ میرے دادا کی بہت اونچی پوزیشن تھی۔ میرے والد کے فلاں بڑے بڑے لوگوں سے تعلقات تھے ۔ میں ان ذرائع کو استعمال کر بڑے بڑے فائدے حاصل کر سکتا تھا۔ مگر میں نے کچھ نہیں کیا۔ یہاں تک کہ دادا اور باپ دونوں اس دنیا سے چلے گئے ۔ اب میرے پاس اس کے سوا کچھ نہیں کہ ماضی کو سوچ سوچ کر کڑھتا رہوں ۔ انھوں نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا کہ میرا معاملہ مواقع کو کھودینے کا معاملہ ہے :

Mine is a case of missed opportunities.

میں نے سوچا کہ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانہ پر آخرت میں انسان کا ہونے والا ہے۔ آج کی دنیا میں انسان کے لیے مواقع ہیں۔ وہ ان کو استعمال کرکے کے آخرت میں اپنا شاندار مستقبل بنا سکتا ہے۔ مگر آج ہر آدمی دوسری دوسری چیزوں میں گم ہے ۔ ہر آدمی اپنے قیمتی مواقع کو کھو رہا ہے ۔ انسان اسی طرح عمل کے بہترین مواقع کو کھوتا رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ اس کی مہلت عمر پوری ہو جاتی ہے ۔ وہ دنیا سے اٹھا کر آخرت میں پہنچا دیا جاتا ہے ۔

آدمی جب آخرت کے عالم میں پہنچے گا اور وہاں دیکھے گا کہ وہ بالکل بے سروسامان ہے۔ اس وقت اچانک اس پر کھلے گا کہ میں نے کتنے قیمتی مواقع کو کھو دیا۔ جب کہ وہ مواقع صرف ایک بار ملے تھے، اب وہ مواقع دوبارہ ملنے والے نہیں ۔ اس وقت ہر آدمی چیخ اٹھے گا _________ میرا معاملہ مواقع کو کھو دینے کا معاملہ ہے ۔

آدمی کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ اس مسئلہ پر غور کرے ، کیوں کہ دنیا میں کھونا وقتی مدت کے لیے ہوتا ہے اور آخرت کا کھونا ایسا ہے جو ابدی طور پر جاری رہے گا ۔

عمل کا موقع جو کچھ ہے صرف آج ہے ، کل کسی کے لیے عمل کا موقع نہ ہوگا ۔ کل کے دن صرف بھگتنا ہے نہ کہ کرنا ۔ بلاشبہ یہ انسانی زندگی کی سنگین ترین حقیقت ہے ، مگر اسی سب سے زیادہ سنگین حقیقت کو انسان سب سے زیادہ بھولا ہوا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues

Printed page