کلام کی دو قسمیں
الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۱۲
کلام کی دو قسمیں
عن عبد الله بن عمر، قال قال رسول الله صلّی اللہ علیہ وسلم : لا تکثروا الکلام بغیر ذکر الله ۔ فان کثرة الکلام بغیر ذکر الله قسوۃٌ لِلقلبِ ۔ وان ابعد الناسِ مِنَ اللهِ القلبُ القاسی ۔
حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ذکر کے بغیر زیادہ کلام نہ کرو۔ کیوں کہ اللہ کے ذکر کے بغیر زیادہ کلام کرنا دل کی قساوت کی وجہ سے ہوتا ہے اور جس دل میں قساوت ہو وہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ سے دور ہوتا ہے۔ اس حدیث میں ”ذکر“ سے مراد معروف معنوں میں کلمات ذکر نہیں ہیں۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بات کرتے ہوئے بار بار ذکر کے کلمات کو اپنی زبان سے دہراتے رہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری بات کو یادِ خداوندی کی کیفیت سے خالی نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ اس کو یادِ خداوندی کی روح سے بھرا ہوا ہونا چاہئے ۔ قساوت۔ کے معنی سختی کے ہیں۔ ارض قاسیہ اس زمین کو کہتے ہیں جو بنجر ہو اور جس میں کچھ نہ اُگے ۔ جب یہ لفظ دل کے لیے بولا جائے تو اس کا مطلب ہوگا سخت دل ، ایسا دل جو بے حس ہو گیا ہو۔ جن لوگوں کے دلوں میں سختی آجائے، جن کے اندر حساسیت باقی نہ رہے، ان کا کلام ایک قسم کی لسانی ورزش ہوتا ہے۔ ایسے کلام میں تواضع اور خشیت کی روح باقی نہیں رہتی۔ وہ بے حس مشین کی طرح بولتے ہیں نہ کہ اس انسان کی طرح جو خدا کی عظمت و جلال میں غرق ہو کر بول رہا ہو۔ اس کے برعکس جو آدمی اللہ سے ڈرتا ہو، جس کو آخرت کی جواب دہی کے احساس نے گھلا رکھا ہو، وہ جب بولے گا تو اس کے لفظ لفظ میں اس کی قلبی کیفیت کا رنگ جھلک رہا ہوگا۔ اس کا کلام ایک سنجیدہ انسان کا کلام ہوگا۔ اس کے لہجہ میں درد مندی ہوگی۔ اس کی باتوں میں گہرائی ہوگی۔ اس کی ہر بات میں خدا اور آخرت کی فکر شامل ہوگی۔ بے حس آدمی کے الفاظ انسانی ڈکشنری سے ماخوذ ہوتے ہیں، حساس آدمی کے الفاظ خدائی معرفت سے۔ اس کے نتیجہ میں دونوں کلام میں وہی فرق پیدا ہو جاتا ہے جو فرق زمین و آسمان کے درمیان ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues