He is our super-guru.
الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۳۴
ملاقات ایک جاپانی سے ہوئی۔ وہ انگریزی جانتا تھا ، بات چیت کے دوران اس نے اپنے بیگ سے ایک کارڈ نکالا۔ اس پر لکھا ہوا تھا ـــــ جاپان اٹھ، دنیا کو تیری ضرورت ہے : Stand up, Japan, the world needs you. اس سے گفتگو کر کے اندازہ ہوا کہ جاپانیوں میں ایک نیا گر وہ ابھر رہا ہے۔ وہ موجودہ صورت حال پر مطمئن نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ صرف عمدہ سامان تیار کر کے دنیا میں بھیجنا یا قوموں کو مالی مدد دینا کافی نہیں۔ دنیا میں امن کا دور لانے کے لئے ہمیں کچھ اور کرنا چاہئے۔ تاہم جاپانیوں کی اکثریت زیادہ تر اقتصادی انداز میں سوچتی ہے :
the Japanese have grown used to thinking of decisions only in terms of economics. اس نے کہا کہ جاپانیوں میں نیا ذہن بنانے کے لئے نصف صدی کی مدت درکار ہوگی تاکہ ان میں یہ سوچ ختم ہو کہ محض دعا کرنے سے امن آسکتا ہے :
It could take half a century to re-educate the Japanese so that they stop thinking that merely praying for peace will bring peace. جاپان کو اپنے مزید حوصلوں کی تکمیل کے لئے ایک ”آئیڈیالوجی“ کی ضرورت ہے۔ مگر جاپان کے پاس کوئی مکمل آئیڈیالوجی نہیں۔ یہی جدید جاپان کی سب سے بڑی کمی ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی ضرورت بھی۔
جلد ہی ۲۲ نومبر ۱۹۹۰ء کو جاپان کے بادشاہ اکی ہیتو (Akihito) کی تخت نشینی کی رسم ٹوکیو میں ادا کی گئی ہے۔ وہ ۱۹۳۳ء میں پیدا ہوئے اور وہ جاپان کے ۱۲۵ ویں شہنشاہ ہیں۔ ہیرو ہیتو کے انتقال (۷ جنوری ۱۹۸۹) کے بعد انھیں یہ عہدہ ملا تھا۔ تاہم محل کے آداب کے مطابق ان کی باقاعدہ تخت نشینی پچھلے ہفتہ کو انجام پائی ہے۔ میں نے ایک جاپانی سے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں کے عقیدہ کے مطابق، جاپانی شہنشاہ آسمان کا خدائی بیٹا ہے : Is the Japanese Emperor the divine Son of Heaven? اس نے کہا کہ پہلے جاپانی ایسا سمجھتے تھے۔ مگر اب وہ ایسا خیال نہیں کرتے۔ اس نے بتایا کہ دوسری
‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues