Al-Risala · January 1992 · page 31

آسان حل

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۳۱

علم ہر قسم کی ترقی کا راز ہے ، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی، جس کے پاس علم ہو اس کے پاس گویا ہر چیز موجود ہے۔

جناب عبد الرحمن انتولے (بیریسٹر اٹ لاء، اور سابق چیف منسٹر مہاراشٹر) نے ۵ فروری ۱۹۸۷ کی ملاقات میں ایک واقعہ بتایا۔ غالباً ۱۹۵۱ کی بات ہے۔ اس وقت وہ لندن کی کونسل آف لیگل ایجوکیشن میں قانون کے طالب علم تھے۔ ایک لکچر کے دوران ایک قانونی مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے ان کے انگریز پروفیسر نے انھیں یہ واقعہ سنایا تھا۔ پروفیسر نے بتایا کہ ایک بڑا صنعتی کارخانہ چلتے چلتے اچانک بند ہو گیا۔ کارخانے کے انجینئر اس کو دوبارہ چلانے کی کوشش میں کامیاب نہ ہو سکے۔ آخر ایک بڑے ایکسپرٹ کو بلایا گیا۔ وہ آیا تو اس نے کارخانے کا ایک راونڈ لیا۔ اس نے اس کی مشینیں دیکھیں ۔ اس کے بعد وہ ایک جگہ رک گیا۔ اس نے کہا کہ ایک ہتھوڑا لے آؤ۔ ہتھوڑا لایا گیا تو اس نے ایک مقام پر ہتھوڑے سے مارا ۔ اس کے بعد مشین حرکت میں آگئی اور کارخانہ چلنے لگا۔

مذکورہ ایکسپرٹ نے واپس جاکر ایک سو پونڈ کا بل بھیج دیا۔ کارخانے کے منیجر کو یہ بل بہت زیادہ معلوم ہوا۔ اس نے ایکسپرٹ کے نام اپنے خط میں لکھا کہ آپ نے تو کوئی کام کیا نہیں، یہاں اگر آپ نے صرف ایک ہتھوڑا مار دیا۔ اس کے لیے ایک سو پونڈ کا بل ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔ براہِ کرم آپ ہمارے نمائندہ کو مزید اور زیادہ بہتر تفصیلات عطا فرمائیں: Please furnish my client with further and better particulars. اس کے جواب میں مذکورہ ایکسپرٹ نے لکھا کہ میں نے جو بل روانہ کیا تھا وہ بالکل صحیح ہے۔ اصل یہ ہے کہ ۹۹ پونڈ اور ۱۹ شلنگ تو یہ جاننے کے لیے ہیں کہ مشین میں غلطی کیا ہے اور کہاں ہے ۔ اور ایک شلنگ ہتھوڑا اٹھا کر مارنے کے لیے :

£ 99.19 to diagnose the disease and one shilling to pick up the hammer and to strike at the right spot. اس دنیا میں سب سے زیادہ قیمت علم کی ہے۔ سو میں ایک اگر محنت کی قیمت ہو تو سو میں ننانوے علم کی قیمت قرار پائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues

Printed page