Al-Risala · January 1992 · page 35

مشتعل نہ کیجئے

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۳۵

نرمی اور تحمل کوئی بزدلی کی بات نہیں، یہ زندگی کا ایک اہم اصول ہے جو خود خالق فطرت نے تمام مخلوقات کو سکھایا ہے۔

عربی کا ایک مثل ہے : السَّمَاحُ رِبَاحُ - یعنی معاملات میں نرمی اور وسعت ظرف کا طریقہ ہمیشہ مفید ہوتا ہے ۔

یہ مثل انسانی تجربات سے بنی ہے۔ انسان نے ہزاروں برس کے دوران دونوں قسم کا تجربہ کیا۔ نرم رویہ کا بھی اور سخت رویہ کا بھی ۔ آخر کار تجربات سے ثابت ہوا کہ سخت رویہ الٹا نتیجہ پیدا کرتا ہے، اس کے مقابلہ میں نرم رویہ ایسا نتیجہ پیدا کرتا ہے جو آپ کے لیے مفید ہو۔ ریلوے اسٹیشن پر دو آدمی چل رہے تھے ۔ ایک آدمی آگے تھا، دوسرا آدمی پیچھے ۔ پیچھے والے کے ہاتھ میں ایک بڑا بکس تھا۔ تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے اس کا بکس آگے آدمی کے پاؤں سے ٹکرا گیا ۔ وہ پلیٹ فارم پر گر پڑا ۔

پیچھے والا آدمی فورا اُٹھ گیا اور شرمندگی کے ساتھ بولا کہ مجھے معاف کیجئے (Excuse me) اگلے والے آدمی نے اس کو سنا تو وہ بھی ٹھنڈا پڑ گیا ۔ اس نے کہا کوئی حرج نہیں (O.K) اور پھر دونوں اٹھ کر اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے ۔

دوسری صورت یہ ہے کہ اس قسم کی کوئی ناخوش گوار صورت پیش آئے تو دونوں بگڑ جائیں۔ ایک کہے کہ تم اندھے ہو ۔ دوسرا کہے کہ تم بدتمیز ہو، تم کو بولنا نہیں آتا ۔ وغیرہ ۔ اگر ایسے موقع پر دونوں اس قسم کی بولی بولنے لگیں تو بات بڑھے گی۔ یہاں تک کہ دونوں لڑ پڑیں گے ۔ پہلے اگر ان کے جسم پر مٹی لگ گئی تھی تو اب ان کے جسم سے خون بہے گا۔ پہلے اگر ان کے کپڑے پھٹے تھے تو اب ان کی ہڈیاں توڑی جائیں گی ۔

خواہ گھریلو زندگی کا معاملہ ہو یا گھر کے باہر کا معاملہ ہو ۔ خواہ ایک قوم کے افراد کا جھگڑا ہو یا دو قوموں کے افراد کا جھگڑا ۔ ہر جگہ نرم روی اور عالی ظرفی سے مسئلے ختم ہوتے ہیں اور اس کے برعکس رویہ اختیار کرنے سے مسئلے اور بڑھ جاتے ہیں ۔

نرم روی کا طریقہ گویا آگ پر پانی ڈالنا ہے، اور شدت کا طریقہ گویا آگ پر پٹرول ڈالنا ۔ پہلا طریقہ آگ کو بجھاتا ہے اور دوسرا طریقہ آگ کو مزید بھڑکا دیتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues

Printed page