Al-Risala · August 1992 · page 16

غلط توجیہہ

الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۱۶

غلط توجیہہ

وقال الذين كفروا لولا نزل عليه القرآن اور انکار کرنے والوں نے کہا کہ اس کے اوپر پورا جملة واحدة - كذلك ، لنثبت به قرآن کیوں نہیں اتارا گیا۔ ایسا اس لئے ہے تا کہ اس فؤادك ورتلناه ترتيلا کے ذریعہ سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کریں اور ہم (الفرقان (۳۲) نے اس کو ٹھہر ٹھہر کر اتارا ہے۔

قرآن بیک وقت کتابی مجموعہ کی صورت میں نہیں اتارا گیا۔ بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے ۲۳ سال کے دوران اتارا گیا۔ اس واقعہ کو لے کر مکہ کے منکرین نے یہ کہنا شروع کیا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ خدا کی کتاب نہیں۔ خدا کے لیے یہ مشکل نہیں کہ وہ ایک ہی وقت میں پوری کتاب بھیج دے۔ محمد ایک اُمّی انسان ہیں، ان کے لیے البتہ بیک وقت پوری کتاب پیش کرنا مشکل ہے۔ چنانچہ وہ عرب کے کچھ لوگوں کی مدد سے اس کا تھوڑا تھوڑا حصہ تیار کرتے ہیں اور جتنا حصہ تیار ہوتا ہے اتنا لوگوں کو سنا دیتے ہیں (الفرقان ۴)

یہ تاخیر نزول کی غلط توجیہہ تھی۔ فرمایا کہ پورا قرآن بیک وقت سامنے نہ لانے کا سبب تیاری کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ترتیل یا تدریج کا مسئلہ ہے (قال الرازی: الترتيل في الكلام ان ياتى بعضه على إثر بعض)

نزول میں تاخیر بجائے خود ایک واقعہ تھی۔ مگر اس کی یہ توجیہہ بے بنیاد تھی کہ اس کا سبب تیاری کا مسئلہ ہے۔ مگر یہ بے بنیاد توجیہہ اتنی پر فریب ثابت ہوئی کہ بہت سے لوگ اس سے متاثر ہو گئے۔ حتی کہ اللہ تعالی کو اس کی تردید کرنی پڑی۔ قرآن میں یہ بتایا گیا کہ تدریج کی مصلحت کی بنا پر نزول میں یہ تاخیر کی جاتی ہے نہ کہ تیاری کی مشکل کی بنا پر۔

یہ دنیا آزمائش گاہ ہے۔ یہاں حقائق پر التباس واشتباہ کا پردہ ہے۔ اس لیے یہاں ایک فتنہ پرور شخص کے لیے ہمیشہ یہ موقع رہے گا کہ وہ ایک صحیح بات کی گمراہ کن توجیہہ کر سکے۔ وہ ایک سیدھی بات کو ٹیڑھی بات بنا کر پیش کرے ۔

یہ موقع قیامت تک کھلا رہے گا۔ قیامت سے پہلے یہ موقع کسی سے چھینا جانے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues

Printed page