دونوں ڈوب گئے
الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۱۸
دونوں ڈوب گئے
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے لوگو، ایک مثال بیان کی جاتی ہے تو تم اس کو غور سے سنو۔ تم لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے، اگرچہ وہ سب کے سب اس کے لیے جمع ہو جائیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو وہ اس کو اس سے چھڑا نہیں سکتے ۔ طالب بھی کمزور اور مطلوب بھی کمزور ۔ انھوں نے اللہ کی قدر نہ پہچانی جیسا کہ اس کو پہچاننے کا حق ہے۔ بے شک اللہ طاقتور ہے ، غالب ہے (الحج : ۷۳-۷۲)
اس معاملہ کی ایک دلچسپ مثال انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا انڈیا(۱۱مارچ ۱۹۹۰) میں نظر سے گزری۔ حیدر آباد میں بدھاا کی مورتی (بت) لگانے کا ایک منصوبہ بنایا گیا۔ اس پورے منصوبہ کی لاگت ۵۸ کروڑ ۵۸ لاکھ روپیہ تھی۔ صرف مورتی کی لاگت ۸۰ لاکھ روپیہ تھی۔ یہ مورتی نہایت اہتمام سے بنوائی گئی۔ اس کا انشورنس ۳ کروڑ ۷ لاکھ روپیہ تھا اور تیاری کے دوران مہاراشٹر کے چیف منسٹر ڈاکٹر چنا ریڈی روزانہ اس کے معائنے کے لیے جاتے تھے ۔ اس مورتی کا وزن تقریباً ۳۰ ٹن تھا، اور وہ ۷۵ فٹ اونچی تھی۔ ۱۰ مارچ ۱۹۹۰ کو بدھ کی یہ مورتی حسین ساگر جھیل کے کنارے ایک مخصوص کشتی پر رکھی گئی۔ اس کو جھیل میں آدھے کلومیٹر کا سفر طے کرکے مقررہ مقام پر پہنچنا تھا جہاں اس کو نصب کرنے کے لیے ایک مخصوص پلیٹ فارم بنایا گیا تھا۔ اس کی تعمیر پر ۲ کروڑ ۳۲ لاکھ روپیہ کی لاگت آئی تھی۔ مگر کشتی جب جھیل کے درمیان پہنچی تو وہ اندر پانی آجانے کی بنا پر در یا اور کسی وجہ سے ڈوب گئی۔ مورتی سمیت آٹھ آدمی بھی سات میٹر نیچے پانی کی تہہ میں چلے گئے ۔
انسان ایک اللہ کے سوا دوسری چیزوں کا بت بناتا ہے ، وہ ان کو مقدس سمجھتا ہے اور ان کو پوجتا ہے۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بت اور اسی طرح صاحبانِ مزار، اپنے اندر کوئی طاقت نہیں رکھتے۔ وہ خود اپنی حفاظت بھی نہیں کرسکتے، وہ دوسرے کی حفاظت کیا کریں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ صرف ایک خدا ہے جو تمام طاقتوں کا مالک ہے ۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اسی کی پرستش کرے اور اسی سے اپنی تمام امیدیں وابستہ کرے ۔ اللہ کے سوا جو چیزیں ہیں وہ خود محتاج ہیں، وہ دوسروں کی کیا مدد کرسکتی ہیں ۔
18 البلاغ اگست ۱۹۹۲
‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues