Al-Risala · August 1992 · page 32

قومی بیداری

الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۳۲

قومی بیداری

یونان کا ایک قدیم شہر ہے جس کا نام سالونیکا ہے۔ اس کا دوسرا نام تھیسالونیکا ہے۔ ۱۹۱۲ تک یہاں ترکوں کی حکومت تھی جو پہلی عالمی جنگ میں ترکوں کی شکست کے بعد ختم ہو گئی۔ یہ یونانی شہر ۳۱۵ ق م میں باقاعدہ طور پر آباد کیا گیا۔ موجودہ انجیل میں سینٹ پال کے جو خطوط ہیں ان میں سے دو خط یہاں کے ان مسیحیوں کے نام ہیں جنھوں نے ابتدائی مسیحی مذہب قبول کیا تھا۔ یہاں یہودی تقریباً پچاس ہزار کی تعداد میں آباد تھے۔ مگر ۱۹۳۳ میں نازیوں نے ان میں سے بیشتر کا خاتمہ کر دیا۔ نیز اس مقام پر جتنے یہودی آثار تھے ان کو بھی مٹا دیا۔ ٹائمس آف انڈیا (۱۴ دسمبر ۱۹۸۳) میں بتایا گیا تھا کہ اب یہاں کی بقیہ یہودی آبادی نے اپنی تنظیم قائم کی ہے جس کا نام یہ ہے : Alliance Israelite Universelle اس تنظیم کے صدر لیون بن میور (Leon Ben Mayor) سے پوچھا گیا کہ یہودیت نے یہاں کیا چیزیں کھوئی ہیں۔ انھوں نے جواب میں کہا کہ تقریباً ہر چیز (Almost everything) انھوں نے مزید کہا کہ یہ صرف مصیبت کے لمحات ہیں جب کہ ہمارے نوجوان لوگ اپنے کو یہودی محسوس کرتے ہیں : It is only in moments of peril that the younger people feel (themselves) Jewish. یہ بات جو یہودی عالم نے یہودیوں کے بارے میں کہی، وہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لیے بھی درست ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم نوجوانوں میں، ہمارے لکھنے اور بولنے والوں کے الفاظ میں، اسلام زندہ ہورہا ہے۔ کچھ لوگ اس کو صحوہ اسلامیہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ محض نئی مصیبت کی زمین پر ابھرنے والا اسلام ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں خدا کی معرفت کی زمین پر ابھرنے والا اسلام ۔

قرآن (۴۱ / ۵۱) کے مطابق اس قسم کی مذہبیت معتبر نہیں۔ حقیقی مذہبیت وہ ہے جو معرفت خداوندی کی بنیاد پر ابھرے نہ کہ مصیبت قومی کی بنیاد پر۔ جس کا سر چشمہ حقیقت اعلیٰ کی دریافت ہو نہ کہ مادی مسائل میں مبتلا ہونا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues

Printed page