Il-lum tibda Il-Hames Laqgha Internazzjonali
الرسالہ، اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۳۵
مذہب جبر کے اس دور کو اسلام نے ختم کیا۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ لوگ عطیہ سے فائدہ اٹھارہے ہیں مگر عطیٰ کا اعتراف کرنے والا کوئی نہیں۔ حتی کہ خود مسلمانوں میں بہت سے لوگ اس خدائی واقعہ کو اپنے قومی فخر کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ صحیح یہ تھا کہ اس کو وہ شکر خداوندی کے خانہ میں ڈالیں۔
عرب تہذیب کا اثر مالٹا پر اتنا گہرا پڑا کہ آج بھی وہ مالطی زبان کی صورت میں موجود ہے۔ مالطی زبان حقیقتاً عربی کی بگڑی ہوئی صورت ہے جس میں انگریزی اور اطالوی زبانوں کے کچھ الفاظ بھی شامل ہو گئے ہیں۔ موجودہ مالطی زبان انگریزی حروف میں لکھی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر مالطی زبان کا ایک اخبار (Nazzjon) ہے۔ اس کے شمارہ ۲۸ اکتوبر کی پہلی سرخی مذکورہ کانفرنس کے بارہ میں تھی۔ اس کے الفاظ اس طرح تھے :
Il-lum tibda Il-Hames Laqgha Internazzjonali
الیوم تبدأ الخميس لقاء انٹر نیشنل) یعنی آج ۵ بجے انٹر نیشنل اجتماع شروع ہوگا۔ ہندستان کے علماء نے ۱۸۵۷ میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کی تحریک شروع کی تھی جو اپنے آخری مرحلہ میں ریشمی رومال کی تحریک کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس سلسلہ میں دسمبر ۱۹۱۶ میں مولانا محمود حسن صاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں ساڑھے تین سال تک مالٹا میں نظر بند رکھا گیا۔ جون ۱۹۲۰ میں وہ رہا کئے گئے ۔ اس نظر بندی کے زمانہ میں مولانا موصوف کے شاگرد خاص مولانا حسین احمد مدنی بھی ان کے ساتھ تھے۔ اس سلسلہ میں جو واقعات بیان کئے جاتے ہیں ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے : حضرت شیخ الہند کے زمانہ نظر بندی میں جو لوگ ساتھ رہے ان میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی کا نام خاص اہمیت رکھتا ہے۔ آپ نے حضرت شیخ کی خدمت کرنے اور زیادہ سے زیادہ آرام پہنچانے میں دن رات ایک کر دیا۔ ایک ادنی سا واقعہ ہے۔ مالٹا میں شدت کی سردی میں حضرت
‹ Previous page Next page › Contents of August 1992 All issues