انسان، حیوان
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۱
اس معاملہ میں یہودیوں کا احساس اتنا بڑھا ہوا ہے کہ وہ خود اپنے اداروں میں بھی اپنے نوجوانوں کو رعایت نہیں دیتے، تاکہ ان کا زیادہ محنت کا جذبہ سرد نہ ہونے پائے۔
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے امریکہ میں سائنس کی تعلیم حاصل کی ہے اور اب وہیں ایک تعلیمی ادارہ میں کام کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ امریکہ میں آپ کی ملاقات کیا کچھ یہودیوں سے ہوئی۔ انھوں نے کہا ہاں۔ خود ہمارے ادارے میں کئی یہودی کام کر رہے ہیں۔ ہمارا ڈائرکٹر بھی یہودی ہے۔
میں نے پوچھا کہ کہا جاتا ہے کہ یہودی امریکہ میں بہت کامیاب ہیں جب کہ وہ وہاں کی بہت چھوٹی اقلیت ہیں۔ ان کی اس غیر معمولی کامیابی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک لفظ میں اس کا راز امتیاز (Excellence) ہے۔ انھوں نے امتیازی لیاقت کو اپنا نشانہ بنایا ہے، اور جب امتیازی لیاقت کا درجہ آجائے تو کوئی بھی آپ کی کامیابی کو روک نہیں سکتا۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں یہودیوں نے جو تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں، ان میں انھوں نے بڑا عجیب اصول رائج کیا ہے۔ ان کے تعلیمی اداروں میں غیر یہودی طالب علموں کو اسکالرشپ کا مستحق بننے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ امتحان میں ۴۰ فی صد نمبر حاصل کریں۔ مگر یہودیوں کے لیے ان کا معیار بے حد سخت ہے۔ یہودی طالب علموں کو اسکالرشپ حاصل کرنے کے لیے ۷۵ فی صد نمبر لانا ضروری ہے۔ اگر ان کے نمبر ۷۵ فی صد سے کم ہوں تو ان کو اسکالرشپ (وظیفہ) نہیں دیا جائے گا۔
یہودی خود اپنے اداروں میں ایسا کیوں کرتے ہیں۔ ان کا یہ عمل بظاہر سختی معلوم ہوتا ہے۔ مگر وہ سختی نہیں بلکہ سب سے بڑی ہمدردی ہے۔ اس طرح وہ اپنے نوجوانوں میں محنت کا جذبہ ابھارتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے نوجوانوں میں یہ حوصلہ پیدا کرتے ہیں کہ وہ دوسروں کو پیچھے چھوڑ کر ان سے آگے نکل جائیں۔
موجودہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں جو لوگ رعایت کے طالب ہوں ان کو صرف پچھلی سیٹوں پر جگہ ملتی ہے، اور جو لوگ امتیازی لیاقت کا ثبوت دیں وہ اگلی سیٹوں پر جگہ پانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues