ضمیر کی طاقت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۴۴
ضمیر کی طاقت
ابوالبرکات علوی (۳۷ سال) نظام پور ضلع اعظم گڑھ (یوپی) کے رہنے والے ہیں۔ ۲۹ اگست ۱۹۸۹ کی ملاقات میں انھوں نے اپنے علاقہ کا ایک واقعہ بتایا جس میں بہت بڑا سبق ہے۔ اعظم گڑھ کے شمال مغرب میں ایک گاؤں ریدا ہے جو مجھوئی ندی کے کنارے فیض آباد کی سرحد پر واقع ہے۔ یہاں چار گھر مسلمانوں کے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں ہندوؤں کے دوسو گھر آباد ہیں۔ نومبر ۱۹۸۷ میں ایسا ہوا کہ باہر سے ایک نیل گائے آیا اور گنے کے کھیت میں داخل ہو گیا۔ ایک مقامی مسلمان جھشنو درزی نے چاہا کہ اس کا شکار کیا جائے۔ انھوں نے پڑوس کے گاؤں مخدوم پور میں ایک مسلمان کو اس کی خبر کی جس کے پاس بندوق ہے۔ وہ اپنی بندوق لے کر آئے اور نیل گائے پر فائر کیا۔ اگر نیل گائے موقع پر مر گیا ہوتا تو کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔ مگر نشانہ صحیح نہیں لگا۔ نیل گائے زخمی ہو گیا اور خون بہاتا ہوا بھا گا ہندوؤں نے جب جا بجا خون دیکھا تو وہ مشتعل ہو گئے۔ ان کو معلوم ہوا کہ جھشنو درزی نے مخبری کرکے نیل گائے پر گولی چلوائی ہے تو انھوں نے گاؤں میں پنچایت کی اور جھشنو کو بلا کر اس کو یہ سزا سنائی کہ تم نے جو قصور کیا ہے اس کے بدلے تمہارے اوپر ایک ہزار روپیہ جبرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔
اس گاؤں میں کوئی سطحی لیڈر جھشنو درزی کو بہکانے کے لیے موجود نہ تھا اور نہ مسلمانوں کا وہاں کوئی زور تھا جو جھشنو درزی کو جھوٹے بھرم میں مبتلا کرے۔ چنانچہ فطرت نے جھشنو درزی کی رہنمائی کی۔ وہ لوگوں کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہا : پنچوں کا فیصلہ مجھ کو منظور ہے۔ میں غریب آدمی ہوں ۔ میرے پاس نقد روپیہ موجود نہیں ۔ مگر میں اپنے گھر کا سامان بیچ کر اس کو ادا کروں گا۔ تین دن گزرے تھے کہ ہندوؤں کا ضمیر جاگ اٹھا۔ انھوں نے دوبارہ اپنے لوگوں کی پنچایت بلائی ۔ انھوں نے آپس میں کہا کہ یہاں مسلمان بہت تھوڑے اور کمزور ہیں۔ باہر کے لوگ جب سنیں گے کہ ہم نے ان سے جرمانہ وصول کیا ہے تو وہ ہم لوگوں کو بہت گرا ہوا سمجھیں گے اور ہماری بے عزتی ہوگی کہ ہم نے مسلمانوں کو کمزور پا کر انھیں دبالیا ۔ اتفاق رائے سے یہ طے ہوا کہ جھشنو درزی سے جرمانہ نہ لیا جائے۔ چنانچہ اس متفقہ فیصلے کے مطابق جھشنو درزی کا جرمانہ معاف کر دیا گیا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues