ایک علامتی مثال
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۰
نہیں ۔ وہ اپنے خاندان کو ترقی کے اعلی مدارج پر پہنچارہے ہیں، مگر انہیں نہیں معلوم کہ وہ ملت کے وسیع تر خاندان کو کس طرح ترقی کا راستہ دکھائیں۔
مذکورہ مسلم دانشور کی مثال لیجئے ، ایک طرف ان کا حال یہ ہے کہ ان کے بیٹے ۱۹۴۷ کے بعد کے ہندوستان میں پیدا ہوتے ہیں۔ انہیں یہاں وہ امکانات مل جاتے ہیں جن کو استعل کرکے وہ بہترین تعلیم حاصل کریں۔ اس کے بعد انہیں مغرب میں مواقع مل جاتے ہیں تاکہ وہاں کی یونیورسٹیوں میں داخلہ لے کر مزید اعلی تعلیم حاصل کرکے اپنے لیے شاندار مستقبل کی تعمیر کرسکیں۔ مگر انہیں مسلم دانشور کے سامنے جب ملت کا مسئلہ آتا ہے تو وہ ملت کے بارہ میں ان تمام امکانات سے بالکل بے خبر ہوجاتے ہیں۔ اپنے بچوں کے لیے انہیں اسی ملک میں روشن مستقبل دکھائی دیتا ہے اور قوم کے بچوں کے لیے صرف تاریک مستقبل ۔
یہاں میں مذکورہ مسلم دانشور کے ایک مضمون کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جس کا تعلق ہندوستانی مسلمانوں سے ہے اور جو دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس (۲۴ نومبر ۱۹۹۱) میں شائع ہوا ہے۔ موصوف اپنے مضمون میں بتاتے ہیں کہ مسلمان اس ملک میں نہایت بری حالت (miserable condition) میں ہیں۔ ہندو فرقہ پرست جماعتوں کی مسلم دشمنی مسلمانوں کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہورہی ہے۔ ان جماعتوں نے اکثریتی فرقہ کے اندر متعصبانہ ذہنیت پیدا کردی ہے۔ مسلمان سرکاری دفتروں میں جاتے ہیں تو ان کے ساتھ سردمہری کا سلوک کیا جاتا ہے۔ حکومت کو مسلمانوں کی تباہی بربادی سے کوئی دل چسپی نہیں۔ اندرا گاندھی کے زمانہ میں گوپال سنگھ کمیشن اور گجرال کمیشن نے اقلیتی مفاد کے لیے سفارشیں پیش کیں مگر اب تک ان کی تعمیل نہ جاسکی۔ فرقہ وارانہ فساد نے مسلمانوں کو عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کردیا ہے۔ وغیرہ، ما وغیرہ۔
مذکورہ دانشور کا پورا مضمون اسی قسم کی مایوس کن باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس کو میں نے پڑھا تو بے اختیار میری زبان سے نکلا : کاش یہ دانشور مذکورہ مضمون کے بجائے ایک اور مضمون لکھتے اور اس میں یہ بتاتے کہ ان کے بچوں نے کس طرح اسی ہندوستان میں پڑھ کر اتنی ترقی کی کہ وہ امریکہ کی یونی ورسٹیوں میں پہنچ گئے اور اب وہ شاندار مستقبل کی طرف اپنا سفر طے کر رہے ہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو وہ ہندوستانی مسلمانوں کو زیادہ فائدہ پہنچاتے۔ کیوں کہ اس سے مسلمانوں کو تجرباتی طور پر یہ معلوم ہوتا کہ وہ اس ملک میں اعلیٰ ترین ترقی کرسکتے ہیں۔ مذکورہ مضمون تو انہیں مایوسی کے سوا کوئی اور تحفہ دینے والا نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1992 All issues