برترحل
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۷
برترحل
سوچنا (thinking) ہماری دنیا کا ایک ناقابل فہم حد تک عجیب عمل ہے۔ موجودہ زمانہ میں اس پر کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان تحقیقات نے انسان کے علماءِ میں اضافہ کرنے سے زیادہ انسان کی حیرانگی میں اضافہ کیا ہے۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں: Dr Rapaport, Toward a Theory of Thinking, 1951 W.E. Vinacke, The Psychology of Thinking, 1952 F.C. Bartlett, Thinking, 1958 Max Wertheimer, Productive Thinking, 1959 ان تحقیقات کے ذریعہ بے شمار نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔ ایک بات یہ ہے کہ انسانی ذہن کے اندر ہمیشہ ایک نہایت اہم عمل جاری رہتا ہے۔ علم نفسیات اس کو ذہنی طوفان سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ عمل اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ ذہن کسی نے چینل سے دوچار ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں وہ خود اپنی فطرت کے زور پر مسائل کے نئے حل تلاش کرنے لگتا ہے۔ یہ عمل اس امکان کو بڑھا دیتا ہے کہ پیش آمدہ مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کچھ برتر حل آدمی کے سامنے آجائیں :
A process called brainstorming has been offered as a method of facilitating the production of new solutions to problems... These unre- stricted suggestions increase the probability that at least some superior solutions will emerge (18/357). یہ ریسرچ بتاتی ہے کہ آدمی جب کسی بحرانی حالت سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے اندر چھپی ہوئی فطری صلاحیت کے تحت اس کے اندر ذہنی طوفان (brainstorming) کی ایک کیفیت جاگ اٹھتی ہے۔ یہ طوفان اس کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ پیش آمدہ مسئلہ کا ایک برتر حل (Superior solution) دریافت کرلے۔ اور مسئلہ کا برتر حل معلوم ہو جانے کے بعد کامیابی اتنی ہی ممکن ہو جاتی ہے جتنا شام کے بعد صبح کا آنا۔ اللہ کا یہ معاملہ کیسا عجیب ہے کہ اس نے مشکلات کو ہماری ترقی کا زینہ بنا دیا۔ 7 النسانی اکتوبر ۱۹۹۲
‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues