تاریخ کا صفحہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۹
سلطان ابو الحسن پر فالج کا حملہ ہوا اور اس کی بینائی بھی ختم ہوگئی۔ سلطان ابو الحسن اس کے بعد غرناطہ کے تخت سے دستبردار ہو گیا اور اپنی جگہ اپنے بھائی ابو عبد اللہ زغل کو سلطان مقرر کیا۔ اس کے بعد ایک سازش کے تحت ابو عبد اللہ زغل کو سلطنت سے ہٹادیا گیا اور ابو عبد اللہ محمد پورے سلطنت غرناطہ کا حکمراں بن گیا۔ مگر اس کے اندر اپنے باپ والی دانش مندی موجود نہ تھی۔ چند مقابلوں میں اس نے مسیحی حکمراں سے شکست کھائی۔ آخری مرحلہ میں غرناطہ کے قلعہ کو مسیحی فوجوں نے گھیر لیا۔ ابو عبد اللہ محمد جس نے اپنے اور اپنے چچا کے مقابلہ میں بہادری دکھائی تھی وہ مسیحی فوجوں کے مقابلہ میں صرف بزدل ثابت ہوا۔ آخر کار ۲ جنوری ۱۴۹۲ء کو اس نے قلعہ اور غرناطہ کی دستبرداری کے معاہدہ پر دستخط کر دیے۔ اس معاہدہ پر ایک طرف فاتح فردی نند نے اپنا دستخط ثبت کیا۔ اور دوسری طرف مفتوح ابو عبد اللہ محمد نے۔ ایک مورخ نے اسپین کے مذکورہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ غرناطہ کے آخری مسلم حکمران سلطان ابو الحسن نے فردی نند اور از بیلا کو شکست دی تھی۔ مگر اس کے اپنے لڑکے ابو عبد اللہ نے اس کے خلاف بغاوت کر دی جو آخر کار اس کے باپ کے زوال کا سبب بنی۔ The last ruler of Granada, Sultan Abul-Hasan, defeated Ferdinand II (1452-1516) and Queen Isabella, but his own son, Abu Abdullah, made a coup against his father which resulted to the downfall of his father. اس دنیا میں باہمی اتحاد سب سے بڑی طاقت ہے اور باہمی اختلاف سب سے بڑی کمزوری۔ یہ بلا شبہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1992 All issues