Al-Risala · January 1992 · page 49

تاریخ کا سبق

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۴۹

اس دنیا میں اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ کو معاملہ کا ابتدائی سرا مل جائے ۔ ابتدائی سرا جس کے ہاتھ میں آجائے وہ آخر کار انتہائی سرے تک پہنچ کر رہے گا۔

ہندوستان کی آزادی کی تحریک ۱۷۹۹ء میں شروع ہوئی جب کہ سلطان ٹیپو انگریزوں سے جنگ کرتے ہوئے مارے گیے۔ اس کے بعد انگریزوں سے لڑنا، انگریز شخصیتوں پر بم مارنا، ان پر حملہ کرنے کے لیے بیرونی حکومتوں کو ابھارنا، جیسے ہنگامے سو سال سے زیادہ مدت تک جاری رہے۔ اس قسم کی تدبیریں اپنی نوعیت میں پر شور تھیں۔ چنانچہ ان کا نام آتے ہی انگریز فوراً چوکس ہو جاتا تھا اور ان کو پوری طاقت سے کچل دیتا تھا۔ اس کے بعد گاندھی میدان سیاست میں آئے تو اچانک صورت حال بدل گئی۔ پہلے لوگ ہنسا کے ذریعہ آزادی کا مطالبہ کرتے تھے ، گاندھی نے اس کے برعکس آہنسا کے طریقہ کو اختیار کیا۔ انھوں نے آزادی کی تحریک کو ایسی بنیاد پر چلانے کا اعلان کیا جو انگریزوں کو ناقابلِ لحاظ دکھائی دے ۔

گاندھی کے اسی طریقہ کا ایک جزو وہ ہے جس کو ڈانڈی مارچ کہا جاتا ہے۔ گجرات کے ساحل پر قدیم زمانہ سے نمک بنایا جاتا تھا۔ انگریز فلمی حکومت نے گجرات میں نمک بنانے کی صنعت کو سرکاری قبضہ میں لے لیا، گاندھی اس قانون کی پر امن خلاف ورزی کے لیے سابرمتی سے پیدل روانہ ہوئے اور ۲۴ دن میں ۲۴۰ میل کا سفر طے کر کے ڈانڈی کے ساحل پر پہنچے اور نمک کا ایک ٹکڑا اپنے ہاتھ میں لے کر سرکاری قانون کی خلاف ورزی کی ۔

گاندھی نے جب اپنے منصوبے کا اعلان کیا تو انگریز عہدیداروں کی ایک میٹنگ ہوئی۔ اس موقع پر ایک انگریز افسر نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کو اپنا نمک بنانے دو۔ مسٹر گاندھی کو چٹکی بھر نمک سے بہت زیادہ بڑی چیز درکار ہوگی کہ وہ برطانوی شہنشاہیت کو زیر کر سکیں : Let him make his salt. Mr. Gandhi will have to find a great deal more than a pinch of salt to bring down the British Empire. موجودہ دنیا میں کامیاب اقدام وہ ہے جو دیکھنے میں ناقابلِ لحاظ دکھائی دے ، مگر حقیقہ وہ ناقابلِ تسخیر ہو ۔ جو حریف کو بظاہر " چٹکی بھر نمک " نظر آئے ، مگر انجام کو پہونچنے تو وہ " پہاڑ بھر نمک " بن جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues

Printed page