Al-Risala · November 1992 · page 5

جنت اور اہلِ جنت

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۵

جنت اور اہلِ جنت

جنت کیا ہے۔ جنت عجیب و غریب نعمتوں کی ایک دنیا ہے جو عجیب و غریب انسانوں کو موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں دی جائے گی ۔ جنت خدا کا انتہائی خصوصی انعام ہے جو خدا کے انتہائی خصوصی بندوں کو ان کے انتہائی خصوصی عمل کے بدلے میں انھیں ملے گا۔ یہ خصوصی بندے وہ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے موجودہ امتحانی مرحلہ میں حقائق کی سطح پر جینے کا ثبوت دیا۔ جنہوں نے خدا کی نشانیوں میں خدا کے وجود کو پالیا۔ جنھوں نے اپنے جیسے ایک انسان کو دائیٔ حق کے روپ میں دریافت کیا۔ جو خدا کو دیکھے بغیر خدا کے آگے ڈھ پڑے۔ یہ وہ انوکھے انسان ہیں جن کو انا کے ساتھ پیدا کیا گیا تھا مگر انھوں نے حق کی خاطر اپنے آپ کو بے انا کر لیا ۔ جن کو قول وعمل کی پوری آزادی حاصل تھی مگر انھوں نے خود اپنے فیصلے سے اپنے آپ کو پابند بنالیا۔ جنھوں نے بظاہر اپنی محنت سے حاصل کیا اور پھر اپنے تمام حاصل کو خدا کے خانہ میں ڈال دیا۔ یہ وہ نادر ہستیاں ہیں جن کے صبح و شام غیر اللہ کے درمیان گزرے مگر انھوں نے صبح وشام اپنے رب کو یاد کیا۔ جن کو دوسرے انسانوں پر قدرت ملی مگر اللہ کے خوف نے ان کی زبان اور ان کے ہاتھ پر روک لگادی۔ جن کے نفس میں غصہ اور انتقام کا طوفان اٹھا مگر اللہ کی پرواہ کے احساس نے ان کے سینہ کی آگ کو ٹھنڈا کر دیا۔

یہ وہ قیمتی انسان ہیں جن کا حال یہ تھا کہ ان کو اس وقت پھپلی سیٹ پر بیٹھنے میں لذت ملی جب کہ دوسرے لوگ اگلی سیٹ پر بیٹھنے کے حریص بنے ہوئے تھے ۔ جنھوں نے اپنے آپ کو اس وقت دنیا دوں میں دفن کیا جب کہ دوسرے لوگ گنبدوں پر جگہ لینے کے لیے دوڑ لگا رہے تھے۔ یہ وہ نفیس روحیں ہیں جنھوں نے ذاتی تعصبات سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو دیکھا۔ جنھوں نے اپنے آپ کو حذف کر کے لوگوں کے ساتھ خالص اصولوں کی بنیاد پر معاملہ کیا ۔ جو شکایت اور اختلاف کے وقت بھی انصاف کے راستہ سے نہیں ہٹے ۔ جنھوں نے ہر قسم کے مفادات کو نظر انداز کر کے اپنے لیے وہ روش پسند کی جو حق وصداقت کے عین مطابق تھی۔

جنت خدا کا باغ ہے۔ وہ اس انسان کے لیے ہے جو خدا کے پھول کی مانند دنیا میں رہا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues

Printed page