ایک لطیفہ
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۵
ایک لطیفہ
شیخ سعدی شیرازی (۱۲۹۲-۱۱۹۳) فارسی کے مشہور شاعر ہیں۔ ان کی کتابوں گلستان، بوستاں کے ترجمے یورپ کی اکثر زبانوں میں ہوئے ہیں۔ ایک مستشرق ڈاکٹر ہرڈر (J.G. Herder) نے سعدی کی کتاب گلستان کے بارہ میں لکھا ہے کہ وہ سلطان کے باغ میں اگنے والا بہترین پھول ہے۔ ... the finest flower that could blossom in a Sultan's garden. (9/964)
شیخ سعدی کا ایک لطیفہ ہے۔ ایک بار وہ کاشغر میں تھے جو اس وقت چینی ترکستان کا صدر مقام تھا۔ یہ زمانہ وہ تھا حسب کہ تاتاریوں اور خوارزمیوں میں جنگ کے بعد عارضی صلح ہوگئی تھی۔ شیخ سعدی نے ایک مسجد میں دیکھا کہ ایک طالب علم عربی قواعد کی کتاب ہاتھ میں لیے ہوئے ہے اور ضرب زید عمرواً، مرتب زید عمرواً کا جملہ رٹ رہا ہے۔ انہوں نے طالب علم سے کہا کہ صاحبزادے، خوارزم اور خطا میں بتو صلح ہوگئی، مگر زید و عمرو کی لڑائی ابھی چلی جارہی ہے۔ طالب علم ہنس پڑا اور شیخ کا وطن پوچھا۔ شیخ کی زبان سے شیراز کا نام سنا تو فرمائش کی کہ سعدی کا کچھ کلام یاد ہو تو سناؤ۔ شیخ سعدی نے جب موقع یہ شعر موزوں کرکے پڑھا:
اے دل عشاق بدام تو صید ما تو مشغول و تو با عمرو و زید اے وہ کہ عاشقوں کے دل تیرے دام میں گرفتار ہیں، ہم تجھ میں مشغول ہیں اور تو مہمہ (غلطی) اور زید میں مشغول ہے۔
یہ لطیفہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں جنگ کا طریقہ فرسودہ ثابت ہو چکا ہے۔ تمام ترقی یافتہ قومیں اپنے نزاعات کو گفت و شنید کے ذریعہ طے کر رہی ہیں۔ حتی کہ روس اور امریکہ نے ایک دوسرے کے خلاف اپنے ہتھیاروں کو رکھ دیا ہے۔ مگر مسلمان ہر جگہ جہاد کے نام پر بے فائدہ لڑائی میں مشغول ہیں۔ موجودہ زمانہ کا انسان تمام چیزوں سے اکتا کر دین حق کی طرف آرہا ہے۔ وہ اسلام کے سایۂ رحمت میں پناہ لینا چاہتا ہے۔ مگر مسلمان لڑائی جھگڑے کے کاموں میں اتنا زیادہ مشغول ہیں کہ ان کو نہ جدید انسانی کی اس طلب کی خبر ہے اور نہ اس کو استعمال کرنے کی فرصت۔
15 المسائل | نومبر 1994 ء
‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues