تاریخ کا سبق
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۷
تاریخ کا سبق
المامون (۱۸-۲۱۸ھ، ۸۳۳-۷۸۶ء) ساتواں عباسی خلیفہ ہے۔ وہ اپنے والد ہارون الرشید کی وفات کے بعد محرم ۱۹۸ھ میں بغداد کے تخت خلافت پر بیٹھا۔ وہ علم اور عمل دونوں اعتبار سے ممتاز صلاحیتوں کا مالک تھا۔ اس کا زمانہ اگر چہ جنگوں اور شورشوں کا زمانہ ہے۔ اس کے باوجود اس کے زمانہ میں علم وفن کو غیر معمولی ترقی حاصل ہوئی۔ المامون ہی نے بغداد کے مشہور بیت الحکمت کو قائم کیا تھا۔ بیت الحکمت (۸۲۰ء) ایک عظیم علمی ادارہ تھا جو کتب خانہ، تحقیقی اکیڈمی اور دار الترجمہ وغیرہ کا مجموعہ تھا (ہسٹری آف دی عربس: ۳۱۰)
مامون کی زندگی کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ اس نے اپنے بعد ولی عہد مقرّر کرنے کے لیے رشتہ کا لحاظ نہ کرتے ہوئے صحیح آدمی کی تلاش کی۔ ۲۰۰ھ میں اس نے آل عباس کے قابلِ ذکر افراد کو مرو میں جمع کیا۔ کئی مہینے تک ان کی تواضع کی۔ وہ ان میں سے کسی لائق شخص کو اپنے بعد ولی عہد مقرر کرنا چاہتا تھا۔ مگر کوئی عباسی اس کو اپنے معیار کے مطابق نظر نہ آیا۔ آخر کار اپنے وزیر الفضل کے مشورہ (الکامل فی التاریخ ۷/ ۱۹۷) پر اس نے بنو ہاشم کی علوی شاخ سے مناسب آدمی لینے کا فیصلہ کیا۔ تلاش اور غور وفکر کے بعد اس نے اس منصب کے لیے علی بن موسی الکاظم بن جعفر الصادق بن محمد بن الحسین بن علی بن ابی طالب کا انتخاب کیا۔ مامون نے ان کو الرضی کا خطاب دیا اور اپنے انتخاب کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ان سے اپنی لڑکی ام حبیب کا نکاح کر دیا۔ ہارون الرشید کی وصیت کے مطابق، مامون کے بعد اس کا بھائی مؤتمن ولی عہد تھا، مگر مامون نے مؤتمن کو معزول کر دیا۔ اور علی الرضی کو اپنے بعد ولی عہد مقرر کیا۔ ابن کثیر لکھتے ہیں :
و ذلك ان المامون رأی ان عليا الرضی خیر اور ایسا اس لیے ہوا کہ مامون نے دیکھا کہ علی الرضی اهل البيت وليس في بنی العباس مثله اہل بیت میں سب سے بہتر ہیں۔ اور بنو عباس کے فرعمله ودینه فجعله ولی عهده من اندر عملی اور دینی اعتبار سے ان کے جیسا کوئی نہیں۔ بعده (البدايه والنهایه ۴۲۷/۱۰) پس مامون نے اپنے بعد ان کو اپنا ولی عہد مقرر کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues