الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۵۶
الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۵۶
ایک آیت
قرآن میں مختلف قسم کے گناہوں کا ذکر کر کے بتایا گیا ہے کہ جو شخص ان گناہوں میں مبتلا ہو گا اس کے لیے خدا کے یہاں سخت عذاب اور رسوائی ہے۔ اس ذیل میں ارشاد ہوا ہے :
الا من تاب و امن و عمل صالحاً مگر جو شخص توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام فاولئک یبدل اللہ سیاتہم حسنات کرے تو اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے وكان الله غفوراً رحيماً۔ ومن تاب بدل دے گا۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور جو و عمل صالحاً فانه يتوب الى الله شخص توبہ کرے اور نیک کام کرے تو وہ در حقیقت متاباً ( الفرقان ۷۰ - ۷۱ ) اللہ کی طرف رجوع کر رہا ہے۔
دین میں کسی عمل کو جانچنے کا معیار اس کا ظاہری پہلو نہیں ہے بلکہ اس کا نفسیاتی نتیجہ ہے۔ ہر دینی عمل کی ایک ظاہری صورت ہوتی ہے۔ مگر کسی عمل سے اللہ تعالی کو اصلا جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ اس عمل کے دوران آدمی کے اندر کسی قسم کا احساس جاگا۔ وہی عبادت عبادت ہے جس میں مشغول ہو کر آدمی کے اندر تواضع کی نفسیات پیدا ہو۔ اگر عبادت کر کے بڑائی کی نفسیات پیدا ہو جائے تو ایسی عبادت انعام کے بجائے مواخذہ کا سبب بن جائے گی۔
انسان فرشتہ نہیں ہے، انسان کے اندر نفس کی کمزوریاں موجود ہیں۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان بار بار اس دنیا میں پھسل جاتا ہے۔ اس سے بار بار غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ اب اگر انسان قصداً کوئی گناہ کرے اور گناہ کر کے اس پر قائم رہے تو وہ اللہ کی نظر میں سخت مجرم ہے۔ وہ قیامت کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ دوسرا انسان وہ ہے جس سے طبعی کمزوری کی بنا پر غلطی ہو جائے۔ مگر غلطی کے بعد وہ فوراً متنبہ ہو اس کے اندر شرمندگی اور توبہ کا احساس جاگے۔ وہ خدا سے معافی مانگے اور آئندہ کے لیے غلطی نہ کرنے کا عزم کرے تو ایسا آدمی اللہ کی نظر میں قابل انعام بن جاتا ہے۔
اس کی غلطی اگرچہ ابتدا از غلطی تھی۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے وہ توبہ اور انابت میں ڈھل گئی۔ اس نے آدمی کے اندر ایمان اور عمل صالح کا نیا احساس جگا دیا۔ یہی وہ برائی ہے جو بظاہر برائی ہونے کے باوجود خدا کے یہاں نیکی کے خانہ میں لکھ دی جاتی ہے کیونکہ وہ آدمی کو ایک نیکی تک پہنچانے کا سبب بنی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues