Al-Risala · December 1992 · page 7

عجیب فرق

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۷

عجیب فرق

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے طائف کی طرف جارہے تھے۔ درمیان میں آپ کا گزر ایک ایسے راستے سے ہوا جو بظاہر دشوار اور تنگ تھا۔ آپ نے پوچھا کہ اس راستے کا نام کیا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ الضيقہ (تنگ)۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، وہ تو الیسری آسان ہے : ثم سلك في طريق يقال لها الضيقہ۔ فلما توجه فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم سأل عن اسمها - فقال : ما اسم هذه الطريق ۔ فقيل له الضيقة - فقال : بل هى اليسرى (سيرة ابن هشام، ۴/ حضرت علیؓ کے یہاں پہلا لڑکا پیدا ہوا تو انھوں نے اس کا نام حرب (جنگ) رکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے اس کو ناپسند فرمایا اور اس کا نام حسن رکھا۔ حضرت علیؓ کے یہاں دوسرے لڑکے کی پیدائش ہوئی تو دوبارہ انھوں نے اس کا نام حرب رکھنا چاہا۔ آپ نے دوبارہ انھیں اس سے منع کر دیا اور لڑکے کا نام حسین تجویز کیا۔ ایک بار آپ کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی۔ آپ نے ان کا نام پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ حزن (غم)۔ آپ نے فرمایا : بل انت سهل (نہیں تمہارا نام تو آسان ہے)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک قبیلے پر ہوا۔ آپ نے پوچھا کہ تم کون لوگ ہو۔ انھوں نے کہا بنوغیان (گمراہوں کی اولاد) آپ نے فرمایا : بل انتم بنو رشد ان (بلکہ تم ہدایت یافتہ لوگوں کی اولاد ہو) غزوہ ذی قر د کے سفر میں آپ کا گزر ایک کنویں سے ہوا۔ آپ نے کنویں کا نام پوچھا۔ لوگوں نے بتایا کہ بئسان (کھاری) آپ نے فرمایا کہ نہیں ۔ بلکہ اس کا نام نعمان (عمدہ) ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر چیز کا ایک تاریک پہلو ہوتا ہے ، اور دوسرا اس کا روشن پہلو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ہمیشہ چیزوں کے تاریک پہلو کو نظر انداز کر کے صرف اس کے روشن پہلو کو دیکھتے تھے اور لوگوں کو اسے دکھاتے تھے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کا طریقہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ چیزوں کے صرف تاریک رُخ کو دیکھ پاتے ہیں، اس کا روشن رخ ہمیشہ ان کی نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے۔ اس کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ وہ پیغمبر اسلام کے امتی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues

Printed page