نرم انداز
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۴
نرم انداز
امام بخاری نے حضرت جابر بن عبداللہ کے واسطے سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اس آدمی پر رحم کرے جو خریدنے اور بیچنے اور تقاضا کرنے کے وقت نرمی برتتا ہے (رحم الله رجلاً سمحا إذا باع وإذا اشترى وإذا اقتضى ، مشكاة المصابيح، الجزء الثانی ، صفحه ٨٥٠) اس حدیث میں اصلاً آخرت کا معاملہ بتایا گیا ہے۔ یعنی جو تاجر ایسا کرے کہ وہ لوگوں کے ساتھ خرید و فروخت کے وقت نرمی کا معاملہ کرے۔ کسی کے ذمہ اس کا بقایا ہو تو نرمی اور شرافت کے ساتھ اس کا تقاضا کرے تو آخرت میں اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ رحم کا معاملہ فرمائے گا۔ چنانچہ ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص لین دین میں لوگوں سے درگزر کا سلوک کرتا تھا۔ جب آخرت میں اس کا معاملہ پیش ہوا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندے سے درگزر کرو، کیوں کہ میں اس قسم کے سلوک کا زیادہ حق رکھتا ہوں (فقال الله تعالى انا احق بهذا منك ، تجاو زوا عن عبدى)
تاہم اسلام میں دنیا اور آخرت الگ الگ نہیں ہیں۔ جو چیز آخرت کے اعتبار سے مفید ہے، اسی میں دنیا کا فائدہ بھی پوری طرح رکھ دیا گیا ہے۔
ایک بار میں نے ایک کامیاب دکاندار سے پوچھا کہ کاروبار میں کامیابی کے لیے کیا چیز ضروری ہے۔ اس نے جواب دیا : نرم بات ۔ یہ عین وہی چیز ہے جو حدیث میں بتائی گئی ہے ۔ اگر دنیا میں صرف کوئی ایک دکاندار ہوتا تو اس کو نرمی کا انداز اختیار کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ اس کو اجارہ داری حاصل رہتی اور ہر شخص اپنی ضرورت سے مجبور ہوتا کہ ہر حال میں اسی سے سودا خریدے۔ مگر دنیا میں بے شمار دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ اب ایک شخص جس کی جیب میں قیمت ہے ، وہ آپ ہی سے خریداری کیوں کرے گا ۔ یہاں آپ کو یہ کرنا ہے کہ گاہک کی ضرورت کا مال دینے کے ساتھ اس کو اپنے نرم اخلاق سے خوش کریں۔ حتی کہ اگر وہ کسی وجہ سے سخت رویہ اختیار کرے تب بھی آپ اس کے ساتھ نرم سلوک کرنا نہ چھوڑیں ۔
موجودہ دنیا میں تجارتی کامیابی کا سب سے بڑا راز یہی ہے۔ نرم انداز آدمی کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے اور سخت انداز ناکامی کی طرف۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues