Al-Risala · December 1992 · page 17

تنقید و تحقیق

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۷

تنقید و تحقیق

تبع تابعین کے زمانہ میں جب حدیث رسول کا چرچا بڑھا تو عالم حدیث ہونا بڑائی کا سب سے بڑا معیار بن گیا۔ بہت سے لوگ فرضی حدیثیں گھڑ کر بیان کرنے لگے تاکہ لوگوں کے درمیان مرتبہ حاصل کریں یا حدیث کے زور پر اپنی بات کو اسلامی ثابت کریں۔ اس وقت اہل علم نے شدت کے ساتھ لوگوں کو متوجہ کیا کہ وہ دین کی بات اخذ کرنے میں سخت احتیاط برتیں۔ مثلاً محمد بن سیرین نے کہا کہ حدیث کا علم دین ہے ، اس لیے تم دیکھ بھال کر علم دین حاصل کرو (هـذا العلـم ديـن فـانـظـروا ممن تأخذون دينكم)، امام اوزاعی نے کہا کہ تم اپنا دین صرف اس سے لو جس پر پورا اعتماد رکھو۔ (حسـن ديـنـك عـمـن تثق بہ و ترضی)

حدیث بیان کرنے والوں کے بارہ میں علماء حدیث نے سخت چھان بین کا طریقہ اختیار کیا۔ حسن بن صالح کہتے ہیں کہ جب ہم کسی شخص سے حدیث لینا چاہتے تو اس کے بارہ میں اتنا زیادہ پوچھ گچھ کرتے کہ لوگ کہنے لگتے کہ کیا تم اس سے رشتہ کرنا چاہتے ہو (کـنـا اذا ارَدنا ان نكـتـب عـن الـرجـل سـألنـا عـنـه حـتـى يـقـال لـنـا : اتريدون أن تتزوجـوه) اشخاص کے کردار کی اس جانچ کی زد ان لوگوں پر پڑتی تھی جو جھوٹی روایتیں بنا کر لوگوں میں پھیلا رہے تھے۔ چنانچہ انھوں نے عوام کے درمیان یہ مشہور کیا کہ یہ محدثین غیبت کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔ حالاں کہ کسی کی غیبت کرنا گناہ ہے ۔ اس لیے حضرت الحسن تابعی کو کہنا پڑا کہ اہل بدعت کی خرابیوں کو بتانا غیبت نہیں ہے (ليـس لاهـل البـد عـة غيـبـة)

قال ابوزيد الانصاری النحوی - اتينا شعبة | ابوزید انصاری کہتے ہیں کہ ہم بارش کے دن شعبہ يوم مطر فقال - ليس هذا يوم حديث | کے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ آج حدیث کا اليوم يـوم غيـبـة ـ تـعـالـوا حـق نـغتـاب | دن نہیں ہے ۔ آج غیبت کا دن ہے ۔ آؤ ہم الكـذا بـيـن (الكفاية) | جھوٹ بولنے والوں کی غیبت کریں ۔

جو شخص دین کے نام پر کوئی بات کہے، اس کی سخت جانچ کی جائے گی ۔ اس کے اوپر تنقید عین جائز ہوگی ۔ یہ اصول اس بات کی ضمانت ہے کہ کوئی شخص دین میں کوئی غلط بات شامل نہ کرسکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues

Printed page