Al-Risala · December 1992 · page 19

یہ فرق کیوں

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۹

یہ فرق کیوں

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قدیم مکہ میں لوگوں کو حق کا پیغام دینا شروع کیا تو لوگوں کی طرف سے نہایت سخت رد عمل ظاہر کیا گیا۔ اس وقت آپ کو یک طرفہ طور پر صبر و اعراض کا حکم دیا گیا۔ چنانچہ چودہ سال تک آپ نے مکمل طور پر اس خدائی ہدایت پر عمل فرمایا۔ آپ ہر قسم کی قولی اور عملی تکلیفوں کو برداشت کرتے ہوئے انہیں اپنی پیغمبرانہ دعوت پہنچاتے رہے۔

دوسری طرف خود پیغمبر اسلام کے حالات بتاتے ہیں کہ آپ نے ان اسلاف پر سخت تنقیدیں کیں جن کو عرب کے لوگ اپنا مقتدا اور اپنا مذہبی رہنما سمجھتے تھے۔ مشرکین کو اس پر بہت گراں گزرتے تھے۔ ان کے سردار جب آپ کے چچا ابو طالب کے پاس جمع ہوئے تو ان سرداروں نے ان سے آپ کی شکایت کی وہ یہ تھی : فقالوا يا ابا طالب ، إن ابن اخينك انہوں نے کہا کہ اے ابو طالب ، آپ کے بھتیجے نے ہمارے قد سب آلهتنا و عاب ديناً معبودوں کو گالی دی اور ہمارے دین کو عیب لگایا وسفه أحلامنا و ضلل آباءنا اور ہماری عقلوں کو بیوقوف بتایا اور ہمارے قومی (سيرہ ابن ہشام (۱/ ۲۷۷) اکابر کو گمراہ ٹھہرایا۔

سیرت رسول کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ دو باتیں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ ایک ہے مدعو کی زیادتی اور اشتعال انگیزی کا معاملہ۔ اس معاملہ میں داعی کو صبر اور اعراض کا حکم دیا گیا ہے۔ داعی کو یک طرفہ طور پر مدعو کی زیادتیوں پر صبر کرنا ہے۔ داعی کے لیے کسی حال میں جائز نہیں کہ وہ مدعو کے مقابلہ میں رد عمل کا انداز اختیار کرے۔

دوسرا معاملہ ان اکابر قوم کا ہے جو مدعو گروہ کے مقتدا اور رہنما بنے ہوئے ہوں ۔ جن سے عام لوگ فکری رہنمائی حاصل کرتے ہوں۔ اس دوسرے معاملہ میں داعی کو صبر کے بجائے احتساب کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ اس کو ان فکری رہنماؤں کی رہنمائی پر واضح تنقید کرنا ہے تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا پوری طرح واضح ہو جائے۔ داعی کو یہ تنقیدی کام بہر حال کرنا ہے خواہ مدعو کو وہ اتنا زیادہ برا معلوم ہو کہ وہ داعی کے بارے میں یہ کہنے لگے کہ تم ہمارے اکابر کو گالی دیتے ہو، تم ہمارے بڑوں کا سب و شتم کر رہے ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues

Printed page