Al-Risala · December 1992 · page 38

S. Arabia cuts off oil supply to Jordan

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۸

جہاز عمان سے بمبئی جاتے تھے۔ پھر روزانہ ۱۳ جہاز جانے لگے۔ اب ان بھی تعداد روزانہ نو کر دی ہے ۔ چند دن کے اندر انشاء اللہ تمام ہندوستانی اپنے وطن پہنچائے جاچکے ہوں گے۔ عمان سے طرابلس کے لئے ارون ایر لائنز کی فلائٹ نمبر ۳۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی ۔ راستہ میں آج (۲۲ ستمبر) اردن کے دو اخباروں کا مطالعہ کیا۔ ایک عربی روزنامہ الرای" دوسرا انگریزی روزنامہ (Jordan Times) انگریزی اخبار کے پہلے صفحہ کی پہلی سرخی یہ تھی کہ سعودی عرب نے اردن سے تیل کی سپلائی بند کردی :

S. Arabia cuts off oil supply to Jordan

ایسا ہو نا بالکل فطری ہے۔ کیوں کہ اردن نے کھلم کھلا کویت عراق کے معاملہ میں صدام حسین کا ساتھ دیا ہے۔ عربی اخبار کے صفحہ ۸ اوپر چھوچھٹوں میں مختلف کمپنیوں اوراداروں کے اعلانات تھے۔ ان اعلانات میں اردن کے ملک حسین کے ساتھ صدام حسین کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ ہر چوکھٹے پر تائید و ولاء، تائید اور دوستی، جیسے الفاظ لکھے ہوئے تھے۔ ان میں صدام حسین کو قائد عربی کے روپ میں دکھایا گیا اور ”عہد“ کیا گیا تھا کہ ظالم امریکیوں اور صلیبیوں کے خلاف جنگ میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اخبار میں کویت کے خلاف صدام حسین کی جارحیت کا مطلق کوئی ذکر نہ تھا ۔ مختلف انداز میں صرف امریکہ اور اس کے ساتھیوں کے ظلم اور فریب کو نمایاں کیا گیا تھا۔ ایک عراقی فوجی طارق نعیم کا خط (رسالہ) اپنے مصری فوجی دوست دسوقی ابو المعاطی کے نام نمایاں طور پر چھاپا گیا تھا۔ اس خط میں عراقی فوجی نے مصری فوجی کو شرم دلائی تھی کہ کیا تم ظالموں کی فوج میں شامل ہو کر میرے اوپر گولی مارنا چاہتے ہو۔ حالاں کہ یہ سب ڈاکو ہیں جو سمندر پار سے عربوں کو قتل کرنے کے لئے آئے ہیں۔ خط کا خاتمہ اس جذباتی لفظ پر ہوا تھا، فهل تدعهم يفعلون (پھر کیا تم انھیں چھوڑ دو گے کہ وہ جو چاہتے ہیں کریں)

اردن کے اخبار میں اس قسم کی خبروں اور اس قسم کے مضمون کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ انسان کی کیسا عجیب ہے۔ وہ دوسرے کے ظلم کو بتاتا ہے اور اپنے ظلم کو چھپاتا ہے۔ صدام حسین نے واضح طور پر کویت کے خلاف جارحیت کی ہے۔ مگر اس کی کھلی ہوئی جارحیت کا کوئی ذکر نہیں، سارا زور و غوغا صرف اس بات پر ہے کہ امریکہ اپنی فوجوں کو لے کر خلیج عرب میں کیوں آگیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues

Printed page