دانش مندی
الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۹
دانش مندی
آج کا سماج کتنا زیادہ بگڑ گیا ہے، اس کا اندازہ کرنے کے لیے ایک واقعہ پڑھیے انڈین ایکسپریس (۲۴ جولائی، ۱۹۸۷) صفحہ ۳ پر نئی دہلی کی ایک خبر ہے جس کا عنوان ہے :
Son kills mother as she refuses to pay Rs 500
خبر میں بتایا گیا ہے کہ ۲۱ جولائی، ۱۹۸۷ کو دہلی کے ایک ۲۳ سالہ نوجوان اشوک کمار نے اپنی ماں شیلا سے ۵۰۰ روپے مانگے۔ ماں نے انکار کیا۔ جس کے نتیجہ میں اشوک کمار بگڑ گیا۔ گھر میں پتھر کی سل تھی۔ اشوک کمار نے یہ پتھر کی سل اٹھا کر اپنی ماں کے سر پر پٹک دی۔ ماں کا سر پھٹ گیا اور وہ مرگئی۔ اس کے بعد اشوک کمار نے اپنی ماں کی لاش لوہے کے ایک بکس میں بند کر کے اس میں تالا ڈال دیا اور خون کے دھبے دھو دیے ۔ اس کے بھائی اور بہن شام کو آئے تو اس نے کہہ دیا کہ ماں پنجاب چلی گئی ہے کیونکہ وہاں سے باپ کی بیماری کی خبر آئی تھی۔ مگر اگلے دن جب بکس سے سخت بدبو آنے لگی تو بکس کھولا گیا۔ بکس کے اندر ماں کی سڑی ہوئی لاش موجود تھی۔ اشوک کمار نے قتل کا اقرار کیا اور اب وہ پولیس کی حراست میں ہے۔
جس ملک میں بیدردی اور بے راہ روی کا یہ عالم ہو وہاں مسلمان اگر ناخوش گوار باتوں سے اعراض نہ کریں اور ہر بات پر دوسروں سے لڑنے جھگڑنے کے لیے تیار رہیں تو اس کا نتیجہ ذلت اور بربادی کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا۔ ایسے ماحول میں جو لیڈر انہیں سکھاتے ہیں کہ ” ڈٹ کر ظلم کا مقابلہ کرو“ وہ یقیناً یا بد ترین پاگل ہیں یا بد ترین شاطر۔ کیوں کہ کوئی بھی سنجیدہ اور ہوش مند آدمی ایسے حالات میں لڑنے بھڑنے کا سبق نہیں دے سکتا۔
نادان آدمی صرف اپنے آپ کو دیکھتا ہے، اور دانش مند آدمی اپنے ساتھ دوسروں کو۔ اور انسانوں سے بھری ہوئی اس دنیا میں وہی شخص کامیاب ہوگا جو اپنے ساتھ دوسروں کو بھی دیکھے اور اپنی سرگرمیوں میں ان کا لحاظ کرے۔ اس کے برعکس جو شخص صرف اپنے آپ کو دیکھے وہ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس کی زندگی کی گاڑی منزل تک نہیں پہنچے گی بلکہ راستہ ہی میں ٹکرا کر تباہ ہو جائے گی۔ یہ زندگی کی حقیقت ہے، اور یہ حقیقت کبھی بدلنے والی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues