Al-Risala · February 1992 · page 12

فرق کو جانیے

الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۱۲

فرق کو جانیے

حدیث میں تعلیم دی گئی ہے کہ تم تجسس نہ کرو ( ولا تجسسوا ) دوسری حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ تم علم کی طلب کرو خواہ وہ چین میں ہو۔ (اطلبوا العلم ولو كان بالصين) تجسس اور طلبِ علم بظاہر ملتی جلتی چیزیں ہیں۔ کیوں کہ دونوں میں اصل مقصود معلومات جمع کرنا ہوتا ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب علم کو جائز اور مطلوب بتایا اور تجسس کو ناجائز اور غیر مطلوب قرار دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تجسس کا مقصد کسی آدمی کے شخصی راز کو جاننا ہوتا ہے ۔ تجسس کرنے والا یہ چاہتا ہے کہ دوسرے آدمی کے ذاتی عیب کو معلوم کرے ۔ اس قسم کا تجسس صرف ایک برائی ہے وہ نفرت ، بدگمانی ، کشیدگی اور عداوت لے آتی ہے ۔ اس سے خاندانی اور سماجی زندگی میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ وہ اصلاح کا سبب نہیں بلکہ بگاڑ کا سبب ہے۔

طلب علم کا معاملہ اس سے سراسر مختلف ہے۔ علم کی طلب معرفت کی طلب ہے ۔ وہ حقائقِ عالم کو جاننے کی کوشش ہے ۔ علم کے اضافے سے آدمی کے ذہن میں وسعت آتی ہے ۔ اس کی روح کو معرفت کی غذا ملتی ہے۔ وہ زندگی کے معاملہ میں زیادہ بہتر منصوبہ بندی کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ علم آدمی کو اخلاقی اور انسانی حیثیت سے اعلیٰ مرتبہ پر لے جاتا ہے۔

اسی طرح بہت سی چیزیں بظاہر ایک سی نظر آتی ہیں۔ مگر ان میں زبردست نوعی فرق ہوتا ہے۔ دنیا میں صحیح راستہ پر قائم رہنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جانے۔ وہ چیزوں کو صرف ظاہر کے اعتبار سے نہ دیکھے بلکہ ان کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے انہیں دیکھ سکے۔ "فرق" کو جاننے کا تعلق پوری زندگی سے ہے ۔ ہر چیز میں اس حکمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی ضرورت دین کے معاملہ میں بھی ہے اور دنیا کے معاملہ میں بھی ۔ مثلاً زندگی میں کبھی چپ رہنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی بولنا ضروری بن جاتا ہے۔ کبھی چلنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی ضروری ہوتا ہے کہ آدمی اپنے گھر کے اندر بیٹھے رہے۔ کبھی معاملہ کو گھٹانا مقصود ہوتا ہے اور کبھی ضروری ہوتا ہے کہ اس کو بڑھانے کی کوشش کی جائے ۔ جو لوگ اس فرق کو جانیں وہی دانش مند ہیں۔ اور جو لوگ اس فرق کو نہ جانیں وہ حیوان کی مانند ہیں، خواہ بظاہر وہ خوش پوش انسان کے روپ میں دکھائی دے رہے ہوں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues

Printed page