فرضی وہم
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۵
فرضی وہم
ایک نفسیاتی بیماری ہے جس کو ہائپوکونڈریا (hypochondriasis) کہا جاتا ہے شخص اس بیماری میں مبتلا ہو وہ خیالی طور پر اپنے کو بیمار سمجھنے لگتا ہے حالانکہ فی الواقع وہ بیمار نہیں ہوتا۔ اس مرض میں مبتلا ہونے والے لوگ یہ یقین کر سکتے ہیں کہ بیماریاں موجود ہیں، اگر چہ فی الواقع یہ نہ ہو :
The hypochondriac may become convinced that diseases exist even though they ۲۸ جولائی ۱۹۹۲ کی ملاقات میں پونہ کے جناب فرحات ہارون خاں صاحب نے بتایا کہ ۱۹۷۱ میں ان کی ملاقات ایک ۲۰ سالہ عرب طالب علم محمد عبد الغفار سے ہوئی۔ وہ بحرین کا رہنے والا تھا اور پونہ میں تعلیم کے لیے آیا تھا۔ اس کو اپنے بارہ میں یہ خیال ہو گیا کہ ہندوستانی غذا ئیں کھاتے کھاتے اس کی صحت تباہ ہو گئی ہے۔ وہ کسی مہلک مرض میں مبتلا ہے۔ اس نے فرحات ہارون صاحب سے کہا کہ مجھے کسی اچھے ڈاکٹر کے پاس لے چلئے۔ فرحات صاحب اس کو پونہ کے ڈاکٹر ایس ایم ایچ مودی کے یہاں لے گئے۔ ڈاکٹر مودی نے نوجوان کا معائنہ کیا۔ مختلف قسم کے ٹیسٹ لیے ۔ چند دن کے بعد اس نے فرحات صاحب سے کہا کہ ان کو بتا دیجیے کہ ان کو کوئی بیماری نہیں، وہ گھوڑے کی طرح ٹھیک ہیں : He is as fit as a horse. ڈاکٹر مودی کا فیصلہ معلوم ہونے کے بعد اچانک عرب نوجوان کی ساری پریشانی ختم ہو گئی ۔ وہ معتدل آدمی کی طرح رہنے لگا۔ اب وہ ایسا ہو گیا جیسے کہ وہ کبھی بیمار ہی نہ تھا۔ بیماری کی یہ قسم صرف افراد تک منحصر نہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی قوم کو بھی یہی نفسیاتی بیماری لاحق ہو جاتی ہے ۔ اس کے رہنماؤں کی غلط رہنمائی اس کو اس بے بنیاد اندیشہ میں مبتلا کر دیتی ہے کہ ہر طرف سے اس کو خطرات نے گھیر رکھا ہے۔ ایسی قوم کی ترقی کا راز یہ ہے کہ اس کو فرضی وہم سے نکال دیا جائے۔ اس کے بعد وہ آپ ترقی کی منزلیں طے کرنے لگے گی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues