Al-Risala · June 1993 · page 45

الم رساله جون ۱۹۹۳

الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۴۵

ہے کہ برے لوگوں کو لائکہ امام کی جگہ کھڑا کر دو۔ اس حدیث کا خطاب حقیقہ امام کی طرف نہیں ہے۔ بلکہ مقتدیوں کی طرف ہے۔ یعنی مسجد میں کسی کو امام بنا دیا گیا۔ اب ایک شخص کے اندر خیال پیدا ہوا کہ اس کے اندر تو فلاں خرابی ہے۔ تو جس شخص یا جن لوگوں کے دل میں اس طرح کا خیال آئے انھیں اپنے اس خیال کے پیچھے نہیں دوڑنا چاہئے بلکہ اس کو نظر انداز کر کے امام کے پیچھے نماز پڑھتے رہنا چاہئے۔ ۶ نومبر کی دوپہر میں لیڈی ہوا ہائی اسکول پونہ کے ہال میں شہر کا پڑھا لکھا طبقہ جمع ہوا۔ ان لوگوں کے سامنے خطاب کا موقع ملا۔ موضوع تھا: تعلیم اور مسلمان۔ میں نے کہا کہ علم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ آدمی کو با شعور بناتا ہے۔ اور باشعور آدمی ہی اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ باتوں کی گہرائی کو سمجھے اور مختلف مواقع پر صحیح فیصلہ لے سکے۔ قرآن و حدیث ، اسلامی تاریخ نیز تاریخ عالم کی مثالوں سے اس کو واضح کیا۔ اس تقریر کا بھی ویڈیو کیسٹ لیا گیا۔

۷ نومبر کی سہ پہر کو انعام دار صاحب کے مکان پر خواتین کا ایک اجتماع ہوا۔ اس میں شہر کی تعلیم یافتہ خواتین جمع ہوئیں۔ اس موقع پر میں نے عورت کے بارہ میں اسلام کا نقطہ نظر بیان کیا۔ میں نے کہا کہ عورت کا مقام عمل (workplace) گھر ہے نہ کہ باہر۔ اسلام میں عزت اور احترام کے اعتبار سے عورت اور مرد دونوں کا درجہ یکساں ہے۔ مگر مقام عمل کے اعتبار سے دونوں میں تقسیم ہے۔ عورت کا مقام عمل بنیادی طور پر اندر ہے اور مرد کا مقام عمل بنیادی طور پر باہر۔ پھر میں نے کہا کہ عورت کا اہم ترین کام اگلی نسل کی تیاری ہے۔ خدا چاہتا ہے کہ اس کی دنیا کو آباد کرنے کے لئے مسلسل صالح انسان ملتے رہیں۔ یہ کام گھر کی تربیت گاہ میں انجام پاتا ہے۔ عورت یہ کام کرے تو اس کا درجہ مرد سے زیادہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت ہاجرہ نے ایک نئی نسل بنائی تو حج اور عمرہ میں مردوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ان کے نقش قدم کی پیروی کریں۔ مغرب میں لیڈیز فرسٹ کے صرف الفاظ ہیں اور اسلام میں سعی بین الصفاو المروہ کی صورت میں عملًا یہ درجہ عورت کو دیدیا گیا ہے۔ ۷ نومبر کو کوئٹہ ایکسپریس کے ذریعہ پونہ سے بمبئی کے لئے روانگی ہوئی۔ جناب فاروق فیصل صاحب ساتھ تھے۔ ان سے راستہ بھر دعوتی اور علمی موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ اس طرح چار گھنٹہ کا یہ سفر بہت آسانی سے گزر گیا۔

ہماری ٹرین کلیان سے آگے بڑھی تو متوازی لائن پر ایک اور ٹرین آگئی۔ ہماری ٹرین کی طرح وہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues

Printed page