Al-Risala · July 1993 · page 4

وحید الدین

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۴

بسم اللہ الرحمن الرحیم

۱۹۹۲ میں لکھنو میں ایک سیمینار ہوا۔ اس کا انتظام اسٹوڈنٹس اسلامک ویلفیر سوسائٹی نے کیا تھا۔ اس کا موضوع بحث تھا علماء کا قائد آنہ کردار ۔ راقم الحروف نے منتظمین کی دعوت پر اس سیمینار میں شرکت کی۔ زیر نظر مقالہ اسی سیمینار کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یکم مارچ ۱۹۹۲ کے اجلاس میں اس کا خلاصہ پیش کیا گیا۔

اس مقالہ میں موجودہ زمانہ میں علماء کے قائد آنہ کردار کا تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس قسم کے تنقیدی جائزہ کے لیے شرعی نقطہ نظر یہ ہے کہ دو چیزوں کو بالکل ایک دوسرے سے الگ رکھا جائے۔ ایک ہے لوگوں کی نیت اور ان کے ایمان و اخلاص کا معاملہ۔ دوسرا ہے اس تدبیر کار کا معاملہ جو متعلقہ اشخاص نے مسائل کے مقابلہ میں اختیار کیا۔ شریعت کے مطابق ، نیت یا ایمان و اخلاص کو بحث کا موضوع بنانا سراسر ناجائز ہے۔ مگر تدبیر کار کو زیر بحث لانا سراسر جائز ۔ زیر نظر مقالہ میں اس تقسیم کو پوری طرح ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس میں نیت یا ایمان و اخلاص کو زیر بحث لائے بغیر صرف اس تدبیر کار کا جائزہ لیا گیا ہے جو ہمارے علماء نے دور جدید میں اختیار کیا۔

زیر نظر جائزہ کا حاصل یہ ہے کہ علماء نے جو تدبیر کار اختیار کی وہ زمانہ حاضر کے تقاضوں کے مطابق نہ تھی۔ اس لیے ان کی کوششیں اور ان کی قربانیاں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔ تاہم یہ علماء کی اجتہادی خطا تھی ، اور جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے ،مومن کااجتہاد اگر درست ہو تو اس کے لیے دو ثواب ہے ، اور اگر وہ اپنے اجتہاد میں غلطی کر جائے تو اس کے لیے ایک ثواب۔ یہ مقالہ بظاہر تنقید ہے مگر حقیقہ وہ تجویز ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ گزشتہ کے جائزہ کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل متعین کیا جائے۔ تاکہ جو کام ماضی میں نہیں ہوا اس کو زیادہ صحیح منصوبہ بندی کے ساتھ مستقبل میں انجام دیا جاسکے ۔

وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page