Al-Risala · July 1993 · page 6

علماء کا رول اسلام میں

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۶

کے لفظ سے کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عباس کی بابت دعائیہ طور پر فرمایا تھا : اَللّٰهُمَّ عَلِّمْهُ الدِّيْنَ وَفَقِّهْهُ فِي التَّاوِيْلِ۔ اس کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے : اٰی فَهَّمْهُ تَأْوِيْلَهُ وَمَعْنَاهُ۔ لسان العرب میں الاذھری کا یہ قول نقل کیا گیا ہے : قَالَ لِي رَجُلٌ مِنْ كِلَابٍ وَهُوَ قبیلہ کلاب کا ایک شخص مجھ کو ایک بات بتا رہا تھا۔ يُصِيْبُ لِي شَيْئاً۔ فلما فرغ غسلن جب وہ اپنی بات کہہ کر فارغ ہوا تو اس نے کہا كَلَامَهُ فَقَالَ أَفَقِهْتَ۔ يريد افھمت۔ اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ کیا تم نے أَفَهْمْتُ۔

اس طرح لسان العرب میں اس سلسلہ کا ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے : فِي حَدِيْثِ سَلْمَانَ ۔ انہ نزل علی حدیث سلمان میں ہے۔ وہ عراق میں ایک نبطی نُبَيْطِيَّةٍ بِالْعِرَاقِ۔ فقال لھا۔ هل عورت کے یہاں ٹھہرے۔ انھوں نے عورت سے هُنَا مَكَانُ نَظِيْفُ أُصَلِّيْ فِيْہ۔ کہا۔ کیا یہاں کوئی صاف جگہ ہے جہاں میں نماز پڑھوں۔ فقالت طھّرْ قَلْبَكَ وَصَلِّ حَيْثُ عورت نے کہا کہ اپنے دل کو پاک رکھو اور پھر جہاں شِئْتَ۔ فقال سلمان : فَقِهْتُ۔ چاہو نماز پڑھو۔ یہ واقعہ بتاکرسلمان نے کہا کہ اٰی فَهِمْتُ وَفَطِنْتُ لِلْحَقِّ۔ فقهت ۔ یعنی وہ عورت سمجھ گئی ، اس نے حق کا (لسان العرب ۱۳/ ۵۲۲)

اور اک کر لیا۔

اہل لغت کی اس تشریح سے معلوم ہوتا ہے کہ فقہ کا مطلب فہم اور بصیرت اور ادراک ہے۔ اس سے مراد وہ جاننا ہے جو معرفت کے درجہ تک پہنچ جائے۔ جو آدمی کوشناسائے حقیقت بنادے۔ صرف عالم ہونا فقیہ ہونا نہیں ہے۔ فقیہ وہ ہے جو عالم ہونے کے ساتھ عارف بھی ہو۔ دائرہ عمل کی تقسیم اب مذکورہ آیت کو لیجئے۔ تفسیروں کے مطالعہ سے اس آیت کا جو پس منظر معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ غزوہ تبوک (۹ھ) میں مدینہ کے کچھ مسلمان نہیں جاسکے تھے۔ ان متخلفین کے بارہ میں قرآن میں سخت آیتیں اتریں۔ اس کے بعد لوگوں کا حال یہ ہوا کہ بعض سرايا پیش آئے تو اس میں مدینہ کے تمام اہل ایمان چلے گئے۔ حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علم دین سیکھنے کے لیے کوئی آدمی شہر میں باقی

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page