قلبِ سلیم
الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۶۴
قلبِ سلیم
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں آدمی کو جو چیز نفع دے گی ، وہ صرف قلبِ سلیم (الشعراء: ۸۹) ہے۔ وہی لوگ جنت میں داخل کیے جائیں گے جو قلبِ سلیم لے کر وہاں پہنچیں۔ "قلبِ سلیم" کی تشریح مختلف الفاظ میں کی گئی ہے مگر سب کا مدعا ایک ہے۔ یہاں ہم تفسیر ابنِ کثیر کا متعلقہ حصہ نقل کرتے ہیں : (الا من اتٰی الله بقلب سلیم) ای سالم من الدنس والشرک ۔ قال ابن سیرین القلب السلیم ان یعلم ان الله حق وان الساعة آتیۃ لا ریب فيها وان الله یبعث من فی القبور ۔ وقال ابن عباس (الا من اتی الله بقلب سلیم) القلب السلیم ان یشہد ان لا اله الا الله ۔ وقال مجاهد والحسن وغيرهما بقلب مگر وہ جو قلب سلیم لے کر آیا ، یعنی گندگی اور شرک سے پاک دل ۔ ابن سیرین نے کہا کہ قلب کا سلیم ہونا یہ ہے کہ وہ جانے کہ اللہ حق ہے اور قیامت آنے والی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں۔ اور اللہ ضرور ان کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔ ابن عباس نے کہا کہ قلب سلیم یہ ہے کہ وہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں۔ مجاہدحسن اور دوسروں نے کہا کہ قلب سلیم کا مطلب شرک سے پاک دل ہے سعید سلیم) یعنی من الشرك ۔ وقال سعيد بن بن مسیب نے کہا کہ قلب سلیم سے مراد قلب صحیح ہے المسيب القلب السليم هو القلب الصحيح المصيب (القلب السليم هو القلب الصحيح وهو قلب المومـن لأن قلب الكافر والمنافق مريض - قال ابو عثمان النيسابورى هو القلب السالم مـن البدعة المطمئن الى السنة ) (٣٣٩/٣)
بن صیب کے لہانہ قلب یم سے مراد قلب صحیح ہے اور وہ مومن کا دل ہے ، کیونکہ کافر اور منافق کا دل مریض ہوتا ہے ۔ ابو عثمان نیسا پوری نے کہا کہ اس سے مراد وہ دل ہے جو بدعت سے پاک اور سنت پر مطمئن ہو ۔
جنت میں داخلہ کا معیار ظاہری اعمال کی مقدار نہیں ہے بلکہ آدمی کی اندرونی کیفیت ہے۔ قیامت میں اصل چیز جو دیکھی جائے گی وہ یہ کہ آدمی کس قسم کی شخصیت لے کر وہاں پہنچا ہے۔ جو لوگ ربانی شخصیت لے کر وہاں پہنچیں گے ، وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے۔ یعنی وہ لوگ جو اپنے اندر معرفت کی روشنی لیے ہوئے ہوں۔ جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے خالی ہوں۔ جو منفی رجحانات سے پاک ہوں جنہوں نے دنیا میں فطرتِ خداوندی کی سطح پر جینے کا ثبوت دیا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues