Al-Risala · August 1993 · page 69

دشواریاں زینہ ہیں

الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۶۹

دشواریاں زینہ ہیں

انسان قدرت کا چھپا ہوا خزانہ ہے۔ مشکلات کی ٹھوکریں اس خزانہ کو اندر سے باہر لے آتی ہیں۔ پوری تاریخ کا تجربہ ہے کہ وہی لوگ سب سے زیادہ ابھرے جنھیں سب سے زیادہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

بیج جب پھٹتا ہے تو اس کے اندر سے عظیم درخت برآمد ہوتا ہے۔ یہی انسان کی شخصیت کا حال بھی ہے۔ انسان کی شخصیت پر جب حالات کا دباؤ پڑتا ہے تو اس کی اندرونی صلاحیتیں ابھرتی ہیں۔ جو چیز پہلے بیج" کے روپ میں چھپی ہوئی تھی، وہ ’’درخت‘‘ کی صورت میں ظاہر ہو جاتی ہے۔ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو مشکل کو صرف مشکل سمجھیں۔ دوسرے وہ جو مشکل کو چیلنج کی نظر سے دیکھیں مشکل کو مشکل سمجھنا مایوسی کا ذہن پیدا کرتا ہے۔ اور مشکل کو چیلنج سمجھنے سے یہ ذہن پیدا ہوتا ہے کہ اس کا سامنا کیا جائے۔

اگر آپ مشکل کو صرف مشکل سمجھیں تو آپ کی موجود صلاحیتیں بھی مرجھا جائیں گی۔ آپ کی سوچنے کی طاقت مفلوج ہو جائے گی۔ مگر جب آپ مشکل کو چیلنج سمجھیں تو آپ کے اندر نئی ہمت جاگتی ہے۔ آپ کا ذہن پہلے سے زیادہ کام کرنے لگتا ہے۔ آپ کو نئی نئی تدبیریں سوجھتی ہیں جن کو استعمال کر کے آپ آگے بڑھ سکیں۔

جس آدمی کو صرف آسانیاں پیش آئیں وہ محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس کی فکر میں سطحیت آ جاتی ہے۔ مگر جس آدمی کو مصیبتوں اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے وہ لامحدود انسان بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ میں گہرائی پیدا ہو جاتی ہے۔

دشواری ایک معلم ہے۔ دشواری سے آدمی ان باتوں کو جان لیتا ہے جن کو کسی درس گاہ میں پڑھایا نہیں جاسکتا۔ دشواری آدمی کے علم میں تجربہ کا اضافہ کرتی ہے۔ دشواری آدمی کی سنی یا پڑھی ہوئی بات کو اس کی ذاتی دریافت بنا دیتی ہے۔

زندگی کی دشواریاں زندگی کے زینے ہیں۔ وہ اس لئے ہیں تاکہ آپ کو نیچے سے اوپر لے جائیں۔ تاکہ وہ آپ کے چھپے ہوئے خزانہ کا آپ کو مالک بنا دیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues

Printed page