فکری سادگی
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۹
وہ اس لیے ہے کہ ہمارا دستور اقلیتوں کے حقوق کا لفظ بولتا ہے۔ وہ ملک میں کئی گروہ تسلیم کر کے ان کے الگ الگ حقوق مقرر کرتا ہے۔ اس سے علیحدگی کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر دستور میں انسانی حقوق کا لفظ درج کر دیا جائے تو ملک کے تمام لوگ ایک ہی نوع (انسان) نظر آئیں گے۔ اس کے بعد اپنے آپ علیحدگی کا ماحول ختم ہو کر یگانگت کا ماحول قائم ہو جائے گا۔ مگر یہ اصل معاملہ کو بہت سادہ سمجھنا (Oversimplification) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ امر واقعہ کو بدلنے کا ہے نہ کہ کسی لفظ کو بدلنے کا۔ درخت کی دنیا میں اگر پھول کے ساتھ کانٹے بھی ہیں تو آپ کانٹوں کے مسئلہ کو اس طرح ختم نہیں کر سکتے کہ اپنی درخت کی ڈکشنری سے کانٹے کا لفظ نکال دیں، ہر جگہ صرف پھول ہی پھول لکھ دیں۔ درخت میں کانٹے کا مسئلہ ایک حقیقی مسئلہ ہے۔ اور ایک حقیقی مسئلہ کو حقیقی سطح پر عمل کر کے حل کیا جاسکتا ہے نہ کہ لفظی سطح پر عمل کر کے۔ مذکورہ فکر کا خلاصہ یہ ہے کہ اقلیت اور اکثریت کا لفظ امتیاز اور علیحدگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس سے سماج میں طبقات پیدا ہوتے ہیں، اس کے برعکس اگر دستور میں انسان کا لفظ لکھ دیا جائے تو امتیاز کا تصور ختم ہو جائے گا اور سماج میں طبقاتی علیحدگی ختم ہو کر طبقاتی یکسانیت کا دور آجائے گا۔
مگر اس قسم کی سوچ سادہ لوحی (Naive thinking) کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندستانی سماج اور اسی طرح تمام ملکوں کے سماج میں مختلف نسلی اور مذہبی طبقات پائے جاتے ہیں۔ یہ فرق موجود ہیں اور موجود رہیں گے۔ ان کو اس طرح ختم نہیں کیا جاسکتا کہ قانون میں ایک لفظ کی جگہ دوسرا لفظ لکھ دیا جائے۔
اس کی ایک عملی مثال ہر ییجن کا مسئلہ ہے۔ ہر یجنوں کے سلسلہ میں وہ چیز عملاً حاصل کی جاچکی ہے جس کا مطالبہ اقلیتوں کے سلسلہ میں کیا جا رہا ہے۔ قدیم تصور کے مطابق، ہندو اور اونچی ذات کے لوگ ہیں اور ہریجن (شدر) نیچی ذات کے لوگ۔ آزادی کے بعد جو قانون سازی ہوئی ہے، اس میں دونوں کو لفظی طور پر ایک کر دیا گیا ہے، چنانچہ ہمارا موجودہ دستور دونوں کو یکساں طور پر ہندو قرار دیتا ہے۔
مگر کیا اس لفظی یکسانیت کی وجہ سے ہندو (اونچی ذات) اور ہر جن (نیچی ذات) کا فرق ختم
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues