Al-Risala · January 1993 · page 41

برداشت کی ضرورت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۴۱

یہ فرق پیدا کر دیا ہے کہ شمالی ہند میں فرقہ وارانہ جھگڑے زندگی کا معمول بن گئے ہیں، جب کہ جنوبی ہند میں فرقہ وارانہ جھگڑوں کا سرے سے کوئی وجود پیس۔

اوپر کی مثال ایک عملی واقعے کی صورت میں بتاتی ہے کہ فرقہ وارانہ مسئلہ کا حل کیا ہے۔ وہ حل یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ مزاج بنایا جائے کہ وہ فرقہ وارانہ اختلاف کے باوجود فرقہ وارانہ اتحاد کے ساتھ زندگی گزاریں۔ جو صورتِ حال آج بھی ملک کے ایک حصہ میں قائم ہے، وہی صورت حال ملک کے دوسرے حصہ میں قائم کر دی جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ فرقہ وارانہ مسئلہ کا حقیقی اور پائیدار حل صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ لوگوں کی سوچ کو درست کیا جائے۔ ہمارے ملک کا یا دوسرے لفظوں میں شمالی ہند کا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ مختلف اسباب سے یہاں کے لوگوں کی سوچ بگڑ گئی ہے۔ یہی جڑ کی بات ہے۔ اور اس جڑ پر عمل کرکے ہی فرقہ وارانہ مسئلہ اور دوسرے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔

کسی سماج میں مختلف فرقوں کا ہونا بالکل فطری بات ہے، وہ ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ باقی رہیں گے۔ ہمارے موجودہ سماج کی اصل برائی خود فرقوں کی موجودگی نہیں، بلکہ مختلف فرقوں کے درمیان تحمل (Tolerance) کی غیر موجودگی ہے۔ فرقہ واریت کا مسئلہ عدم تحمل کا پیدا کردہ ہے، نہ کہ خود فرقوں کی موجودگی کا پیدا کردہ۔

برداشت کی ضرورت

سماج میں مختلف سطحوں پر فرق اور اختلاف کا ہونا بالکل لازمی ہے۔ آپ سماج کے اوپر یکسانیت کا بلڈوزر نہیں چلا سکتے۔ روسی ڈکٹیٹر اسٹالن نے اپنے ملک میں بے طبقاتی سماج (Classless society) قائم کرنے کے لیے ۲۵ ملین انسانوں کو نہیں ڈالا۔ پھر بھی وہ بے طبقاتی سماج بنانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ پھر آپ اس ناممکن کام کو کس طرح ممکن بنا سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ کا قابلِ عمل حل صرف یہ ہے کہ لوگوں کے اندر تحمل کا مزاج اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ انھیں اختلاف میں اتحاد (Unity in diversity) کا سبق دیا جائے، قومی اتحاد ہم کو اختلاف کے باوجود قائم کرنا ہے کہ اختلاف کے بغیر۔ کیونکہ وہ ممکن ہی نہیں۔ قوم کے افراد کے اندر تحمل کا مطلوبہ مزاج پیدا کرنے کے لیے ہمیں وہی عمل کرنا ہے جس کو فبین

‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues

Printed page