عجیب لوگ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴
عجیب لوگ
ایران حضرت عمر فاروق کے زمانہ خلافت میں فتح ہوا ہے۔ اس وقت ایران کی مسلم افواج کے سپہ سالار حضرت سعد دبن ابی وقاص تھے۔ اس جنگ میں ایرانیوں کا کافی نقصان ہوا۔ چنانچہ انہوں نے گفت و شنید کی پیش کش کی۔ حضرت سعد نے مختلف وفود کو رستم اور یزد گرد کے دربار میں بھیجا۔ مثلاً نعمان بن مقرن۔ فرات بن حیان حنظلہ بن ربیع - عطار بن حاجب - اشعث بن قیس ۔ مغیرہ بن شعبہ - عمر و بن معد یکرب کے وفود (البدایہ والنہایہ)
تاریخ میں ان سفارتوں کی کافی تفصیلات آئی ہیں۔ آخری مرحلہ میں حضرت مغیرہ کا وفد شہنشاہ یزد گرد کے زرق برق دربار میں آیا۔ مدائن کے محل میں انھوں نے انتہائی بے خوفی کے ساتھ تقریر کی۔ یزد گرد اس کو سن کر بگڑگیا۔ اس نے کہا کہ تم میرے سامنے اس طرح کی باتیں کرتے ہو۔ اگر یہ قاعدہ نہ ہوتا کہ ایلچی قتل نہ کئے جائے تو میں تم کو ضرور قتل کر دیتا ۔ اب تم واپس جا کر اپنے امیر کو ۔ بتا دو کہ میں سپہ سالار رستم کی سرکردگی میں ایسا لشکر بھیجنے والا ہوں جو تم سب کو قادسیہ کے خندق میں دفن کر دے گا۔
پھر یزد گرد نے محل کے آدمیوں سے کہا کہ ایک ٹوکری میں مٹی بھر کر لاؤ۔ مٹی لائی گئی تو اس نے مسلمانوں کے وفد سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ تم میں سب سے زیادہ شریف کون ہے۔ وفد کے افراد چپ رہے۔ اس کے بعد عاصم بن عمرو بولے کہ میں سب سے زیادہ شریف ہوں۔ یزد گرد نے حکم دیا کہ مٹی کی ٹوکری عاصم بن عمرو کے گلے میں لٹکائی جاتے اور ان کو یہاں سے بھگادیا جائے یہاں تک کہ وہ مدائن کے باہر چلے جائیں۔
شاہی حکم کے مطابق مٹی کی ٹوکری عاصم بن عمرو کے گلے میں لٹکا دی گئی ۔ وہ اس کو لے کر مدائن کے محل سے نکلے اور اونٹنی پر سوار ہو کر تیزی سے قادسیہ کی طرف روانہ ہوئے جہاں حضرت سعد بن ابی وقاص مقیم تھے۔ وہاں پہنچ کر انھوں نے حضرت سعد کو ساری روداد سنائی اور مٹی کی ٹوکری ان کے سامنے رکھ دی۔ اس کے بعد مسلم سردار نے جو جواب دیا وہ یہ تھا :
‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues