Al-Risala · September 1993 · page 8

زیک سوئے رستم زیک سوئے سعد

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۸

حل یہ ہے کہ کسی طرح ان کے سونڈ اور ان کی آنکھیں بے کار کر دی جائیں۔

اس کے بعد حضرت سعد نے مسلم فوج سے کچھ خاص جوانوں کو طلب کیا۔ ان کو پوری بات سمجھائی اور ان کو ابھارا کہ تم جان پر کھیل اس مہم کو سر کرو۔ چنانچہ قعقاع اور کہہ دوسرے جوانوں نے دو ہاتھیوں کو منتخب کیا۔ یہ دونوں ہاتھی جسامت میں سب سے بڑے تھے اور بقیہ ہاتھیوں کے لیے سردار کا کام کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک ہاتھی کا نام ابیض تھا اور دوسرے کا نام اجرب۔ مسلم جوانوں نے ان دونوں ہاتھیوں کو نٹنے میں بی لے لیا۔ انھوں نے نہایت پھرتی سے بڑھا مار کر ان کی آنکھوں کو بے کار کر دیا۔ اس کے بعد سونڈ پر اتنے زور سے تلوار ماری کہ وہ کٹ کر الگ ہو گئی ۔ اب دونوں ہاتھی پیچھے کی طرف بھاگے ۔ ان کو دیکھ کر بقیہ ہاتھی بھی ان کے ساتھ مڑ کر پیچھے کی طرف بھاگنے لگے ۔ ہاتھیوں کی جو فوج پہلے مسلمانوں کو روند رہی تھی اس نے انتہائی بے دردی کے ساتھ خود ایرانی فوج کو روند ڈالا ۔

حضرت سعد بن ابی وقاص کے مذکورہ واقعہ میں دو بہت بڑے سبق ہیں۔ ایک یہ کہ کسی شخص کے خلاف کوئی بات سامنے آئے تو آدمی کو کبھی ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اس کو فورا مان لے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ معاملہ کی پوری جانچ کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اصل بات اس سے بالکل مختلف تھی جو بظاہر ابتدائی رپورٹ سے سامنے آئی تھی۔ جس خبر میں کسی کے خلاف بدگمانی کا پہلو ہو اس کو مکمل تحقیق کے بغیر مان لینا سراسر ایمانی تقاضے کے خلاف ہے ۔

دوسرا سبق وہ ہے جس کا ثبوت قادسیہ کے موقع پر عرب فوجیوں نے دیا۔ انھیں اپنے سردار سے زبردست شکایت تھی ۔ حتیٰ کہ اس شکایت کا اظہار انھوں نے اشعار کی صورت میں کیا اور وہ اشعار تمام فوجیوں کے درمیان پھیل گیے ۔ اس کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ لوگ اپنے سردار سے بغاوت کر دیں یا جنگ میں بے جگری کے ساتھ نہ لڑیں ۔ سردار سے شکایت کے باوجود وہ اپنا فرض بھر پور طور پر ادا کرتے رہے ۔

یہی وہ لوگ ہیں جو تاریخ بناتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر یہ مزاج نہ ہو وہ صرف یہ کریں گے کہ آپس میں ردّوبدل کرتے ہوئے کھیل کو بگاڑ دیں اور ایک جنگ جو جیت پر ختم ہونے والی تھی اس کو شکست اور ناکامی میں تبدیل کر دیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues

Printed page