ایک باپ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۱
میں نے کہا "اے ابو محمد ، آپ نے کیوں زحمت فرمائی۔ مجھے بلا بھیجا ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ نہیں، اس وقت مجھ کو ہی تمہارے پاس آنے کی ضرورت تھی۔ میں نے کہا، پھر کیا حکم ہے؟ انھوں نے کہا، مجھے خیال آیا کہ تم اپنے گھر میں تنہا ہو گے ، حالاں کہ اب تو تمہاری شادی ہو چکی ہے۔ مجھے گوارا نہیں ہوا کہ تم تنہارات بسر کرو ، اور یہ ہے تمہاری بیوی"۔ اس وقت ابن مسیب کی صاحبزادی ٹھیک ان کے پیچھے کھڑی تھیں۔ انھوں نے صاحبزادی کو دروازہ کے اندر کر کے باہر سے خود ہی دروازہ بند کر دیا اور واپس چلے گئے۔ میری بیوی شرم کے مارے گڑپڑی ، پھر میں نے اندر سے دروازہ بند کیا اور اس کے بعد چھت پر چڑھ کر پڑوسیوں کو آواز دی ۔ وہ لوگ جمع ہوئے اور پوچھا قصہ کیا ہے۔ میں نے کہا، سعید بن مسیب نے آج اپنی لڑکی کا عقد میرے ساتھ کر دیا ۔ اور آج ہی اچانک وہ اسے میرے گھر بھی پہنچاگئے ۔ اور وہ یہاں گھر میں موجود ہے۔ لوگوں نے آکر اسے دیکھا اور میری ماں کو خبر ہوئی تو وہ بھی آگئیں اور انھوں نے کہا، اس کو چھونا تمہارے لئے حرام ہے جب تک میں حسب دستور تین دن تک اسے بناسنوار نہ لوں ۔ چنانچہ میں تین دن تک رکارہا ۔ اس کے بعد اس کے پاس گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ ایک حسین و جمیل خاتون ہے ۔ کتاب اللہ کی حافظ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عالم ہے۔ اور حقوق شوہری کو خوب پہچانے والی ہے۔
أبو وداعہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد ایک ماہ تک میں گھر ہی پر رہا۔ اس دوران میں سعید بن مسیب کا نہ کوئی حال ملا اور نہ ان سے ملاقات ہوئی۔ پھر ایک مہینہ کے بعد میں ان کی صحبت میں حاضر ہوا۔ اس وقت وہاں مجلس قائم تھی ۔ میں نے سلام کیا ۔ انھوں نے سلام کا جواب دیا۔ اس کے بعد کوئی بات چیت نہ کی۔ یہاں تک کہ جو لوگ مسجد میں تھے سب چلے گئے ۔ اس کے بعد جب میرے سوا کوئی وہاں نہیں رہ گیا تو انھوں نے پوچھا ۔ تمہارے ساتھی کا کیا حال ہے۔ میں نے کہا، بہترین حال ہے۔ انھوں نے فرمایا : ان لربك شئ فالعصا یعنی وہ کوئی ناپسندیدہ حرکت کرے تو اس کو مارو۔
پھر میں اپنے گھر لوٹ آیا ۔ اور یہ سعید بن مسیب کی لڑکی وہ تھی جس کے لئے خلیفہ عبد الملک بن مروان نے اپنے لڑکے ولید کا پیغام دیا تھا جب اس نے اس کو ولی عہد بنایا تھا، تو سعید بن مسیب نے شہزادہ ولید سے رشتہ کرنے سے انکار کیا جس کی وجہ سے عبد الملک سعید بن مسیب کے پیچھے پڑ گیا ۔ یہاں تک کہ سخت سردی کے دن میں انھیں کوڑے سے پیٹا گیا اور اوپر سے ٹھنڈا پانی ڈالا گیا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues