Al-Risala · September 1993 · page 13

مسلم حج

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۳

نہیں ہے جب کہ ہم دیانت دارانہ فیصلہ کرنے میں بے بس ہیں۔

پھر امیر موسیٰ نے قاضی سے ملاقات کی اور ان سے مہربانی کی درخواست کی۔ قاضی شریک نے کہا کہ میرے نزدیک اس کا حل صرف یہ ہے کہ وہ تمام لوگ دوبارہ قید خانہ میں لوٹائے جائیں جن کو قید کیے جانے کا میں نے حکم دیا تھا۔ چنانچہ امیر موسیٰ نے مجبور ہو کر تمام لوگوں کو دوبارہ قید خانہ میں واپس کیا۔ اور خود عورت کے ساتھ عدالت میں حاضر ہوئے۔ پھر قاضی شریک نے یہ فیصلہ دیا کہ امیر عورت کے باغ کو اسے لوٹائے اور جو حدود اور نشانات ڈھا دیے گئے تھے ان کو دوبارہ قائم کرے چنانچہ اس حکم کا نفاذ کیا گیا :

روی ان القاضی (شريك بن عبد الله) قد شكت اليه امرأة من انها عند ما امتنعت عن بيع بستانها للأمير موسی بن عیسیٰ عم امير المومنین المهدی ا من غلمانه فأزالا حدود بستانها ومعالمه وتخلطو ببستانه ، فارسل يستدعى الامير للحضور في مجلس القضاء مع المرأة - فارسل الامير رئيس الشرطة بالكوفة ليطلب منه العدول عن هذا فحبس رئيس الشرطة ، ولما علم الامير بذلك بعث بعض الوسطاء يعتبون على القاضی فقال لهم (شريك) لماذا ترفع الامير عن الحضور إلى مجلس الحكم؟ هل نصب القضاء للفصل بين العامة فحسب ، ان العدالة لا تفرق بين امير و صغير، وانتم بتداخلكم في امر القضاء لا بد ان يحل بكم جزاء ، ثم امر بحبسهم فذهب الامير فی رکب من حراسه إلى السجن واخرج المسجونين عنوة قاعد القاضی نفسه للسفر الى بغداد للقاء الخليفة المهدي ليطلب اعفاءه من القضاء قائلا : (والله ما طلبت من بني العباس ولاية القضاء ، وانما هم الذين اكرهونا عليها ۔ ولقد وعدونا ان نكون اعزة احراراً نتوخى العدل في احكامنا ان تولينا القضاء ۔ اما الآن فلا سبيل الى البقاء في مجلس الحكم مادمنا عاجزين عن اداء الامانة) فلحق به الامير واخذ يستعطفه فقال : الحل عندى ان يرد الى السجن جميع من امرت بسجنهم فاضطر الامير الى اعادتهم الى السجن والى حضور مجلس القضاء مع المرأة،

‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues

Printed page