اسلامی شجاعت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۴
اسلامی شجاعت
حطین کی جنگ (۱۱۸۷ء) تاریخ کی مشہور جنگ ہے۔ حطین شمالی فلسطین کا ایک مقام ہے۔ صلاح الدین ایوبی نے اسی مقام پر اپنی غیر معمولی جنگی منصوبہ بندی کے ذریعہ صلیبی فوجوں پر فتح حاصل کی۔ اس وقت مسلم فوج کی تعداد ۱۸ ہزارتھی اور عیسائی فوج کی تعداد ۱۵ ہزار ۔ جنگ میں بیشتر عیسائی فوجی مارے گے ۔ اور مسلمانوں کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی۔
جنگ کے بعد بہت سے عیسائی سردار گرفتار ہوئے ۔ ان میں یروشلم کا بادشاہ :(Guy de Lusignan) اور فرانسیسی جنرل ریجینالڈ (Reginald) بھی شامل تھا۔ ریجینالڈ کے متعلق مورخین متفق ہیں کہ اس نے صلاح الدین ایوبی کے ساتھ بار بار غدر کا معاملہ کیا تھا۔
انسائیکلو پیڈیا برطانیہ کا (۱۹۸۴) نے لکھا ہے کہ ریجینالڈ ۱۱۴۷ء اور ۱۱۸۷ء کے درمیان ہونے والی صلیبی لڑائیوں میں اہم فوجی شخصیتوں میں سے ایک تھا جس کی صلح کی مدت کے دوران مسلم قافلوں پر ناعاقبت اندیشانہ حملوں کی پالیسی آخر کار یروشلم کی لاطینی بادشاہت کی بربادی اور اس کے بیشتر علاقوں کے کھوئے جانے کا سبب بنی :
One of the leading military figures of the Crusades between 1147 and 1187, whose reckless policy in raiding Muslim caravans during periods of truce led to the virtual destruction of the Latin Kingdom of Jerusalem and the loss of most of its territory (VIII/480). مورخ ابن شدا د نے لکھا ہے کہ ریجینالڈ نے ایک بار مسلم قافلہ پر دھوکے سے حملہ کیا۔ انھوں نے اس کو خدا کا واسطہ دلایا۔ اور اس معاہدہ صلح کا واسطہ دیا جو اس کے اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا۔ مگر ریجینالڈ نے کہا کہ اپنے محمد سے کہو ، وہ تمہیں بچائے۔ یہ خبر جب صلاح الدین ایوبی تک پہنچی تو اس نے نذر مانی کہ اللہ جب اس کے اوپر مجھے فتح دے گا تو میں خود اس کو قتل کروں گا (انہ لما غدر بالقافلة ناشد وا الله والصلح الذى بينه وبين المسلمين ۔ فقال: قولوا لمحمدكم يخلصكم ۔ فلما بلغاء ذلك عنه نذر انه متى أظفره الله به قتله بنفسه، صفحه ۱۲۷)
‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues