میدانِ جنگ میں نماز
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۱
اورنگ زیب کی زندگی کے واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو ۱۶۴۷ میں پیش آیا۔ جب کہ اس نے عین میدانِ کارزار میں گھوڑے سے اتر کر نماز ادا کی۔ ڈاکٹر آرسی مجمدار اور ڈاکٹر ایچ سی رائے چودھری نے اپنی مشترک کتاب (An Advanced History of India) میں اس واقعہ کو ان الفاظ میں درج کیا ہے :
Aurangzeb was a pious' Muslim, and with the zeal of Puritan he scrupulously observed the injunctions of the Holy Qur'an. Once during the Balkh campaign he knelt down to finish his prayers at the proper time, though the fighting was going on all around him. (p. 501-502)
اورنگ زیب ایک پارسا مسلمان تھا۔ اور ایک سخت محتاط مذہبی انسان کی طرح جوش کے ساتھ وہ مقدس قرآن کے احکام کی اطاعت کرتا تھا۔ ایک بار بلخ کے معرکہ کے دوران وہ زمین پر جھک گیا تاکہ ٹھیک وقت پر اپنی نماز کو مکمل کرے۔ اگرچہ اس وقت اس کے چاروں طرف لڑائی جاری تھی۔
جنگ وہ لمحہ ہے جب کہ ہر طرف تیر تلوار اور نیزوں کی جھنکار ہوتی ہے۔ چاروں طرف قتل اور خون کا بھیانک منظر دکھائی دیتا ہے۔ زندگی اور موت دونوں اتنے قریب آجاتے ہیں کہ دونوں کے درمیان کوئی فاصلہ باقی نہیں رہتا، اس وقت عین میدانِ جنگ میں نماز کے لیے کھڑا ہونا اور اطمینان کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرنا ایک انتہائی حیرت انگیز واقعہ ہے۔ وہ کونسی طاقت ہے جو ایک انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اس قسم کا حیرت ناک واقعہ ظہور میں لاسکے۔
یہ اللہ پر ایمان کی طاقت ہے۔ ایک مومن جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اس وقت اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی ہستی کی حمایت میں آگیا ہے جو تمام طاقتوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ جو ہر خطرہ کے مقابلہ میں اس کی طرف سے ناقابل تسخیر ڈھال بن سکتا ہے۔ یہ احساس مومن کے اندر بے پناہ اعتماد پیدا کر دیتا ہے۔ انسان اس کی نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں اور خدا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ اس کو اپنے سامنے دکھائی دینے لگتا ہے۔ ایمان ایک عظیم عقیدہ ہے اور اسی کے ساتھ ایک عظیم طاقت بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues