مفاد کی قربانی
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۸
مفاد کی قربانی
دور اول میں جنوبی اسپین کے بڑے حصہ پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگئی تھی۔ اس علاقہ کو اصطلاحی طور پر اندلس کہا جاتا ہے۔ تاہم شمالی اسپین کا ایک حصہ ہمیشہ عیسائیوں کے پاس رہا۔ اس بنا پر دونوں قوتوں میں ہمیشہ ٹکراؤ اور مقابلہ کی صورت قائم رہتی تھی۔ گیارھویں صدی عیسوی کے نصف ثانی میں حالات بہت بگڑ گئے۔ مسیحی بادشاہ الفانسو (Alfonso VI) نے ۱۰۸۵ء میں طلیطلہ (Toledo) کو فتح کر کے اپنی طاقت بہت زیادہ بڑھالی۔ اس نے مسلم شہروں پر حملے شروع کر دیے۔ اس کے حملے اتنے شدید تھے کہ یہ اندیشہ محسوس کیا جانے لگا کہ بہت جلد اسپین سے مسلم اقتدار کا خاتمہ ہو جائے گا۔
اس وقت المعتمد بن عباد اسپین کے مسلم علاقہ کا سلطان تھا۔ اس کا دار السلطنت اشبیلیہ (Selves) تھا۔ اس کو بہت مشکل حالات میں حکومت کا نظام سنبھالنا پڑا۔ پڑوس کے مسیحی حکمراں نہایت بے رحمانہ طور پر مسلم علاقہ کی طرف اقدام کر رہے تھے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پورا اسپین دوبارہ مسیحی اقتدار کے تحت آجائے گا :
He was destined to rule in difficult times: neighbouring prices were resuming the inexorable advance that in time would bring all of Spain once again under Christian rule. (VII/138)
الفانسو نے اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے بعد المعتمد سے اپنے سفیر کے ذریعہ خراج ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ المعتمد نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مطالبہ کو تسلیم کر لیا اور اس کو خراج کی رقم بھیج دی۔ یہ خراج چاندی کے سکوں کی صورت میں تھا۔ مسیحی حکمراں نے چاندی کے سکے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اور اتنے ہی مقدار میں سونے کے سکے کا مطالبہ کیا۔ اب المعتمد کو غصہ آگیا۔ اس نے مسیحی سفیر کو قتل کر دیا اور زر خراج کی رقم ادا کرنے سے انکار کر دیا۔
الفانسو اپنی طبیعت کے لحاظ سے ایک متکبر بادشاہ تھا۔ مذکورہ واقعہ کے بعد وہ سخت برہم ہوا اور پختہ ارادہ کر لیا کہ اشبیلیہ پر حملہ کر کے نہ صرف اپنا انتقام لے بلکہ ہمیشہ کے لیے مسلم
‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues