Al-Risala · September 1993 · page 50

مفاد کی قربانی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۵۰

defeat upon the Christian forces: (VII/138)

فتح کا یہ واقعہ بے حد اہم تھا۔ مسلمانوں کی حکومت اسپین میں اس وقت خاتمہ کے عین کنارے پہنچ گئی تھی۔ مگر اس فتح نے اسپین میں مسلم عہد کو چار سو سال مزید آگے بڑھا دیا۔

تاہم یہ عظیم سیاسی کامیابی ایک عظیم نفسیاتی قربانی کے ذریعہ ممکن ہو سکی۔ ایسا صرف اس وقت ہوا جب کہ سلطان المعتمد نے یہ قربانی دی کہ اس نے اپنے سیاسی مفاد کی پروا نہ کرتے ہوئے یوسف بن تاشفین سے بلا شرط فوجی اتحاد کر لیا۔

زندگی میں بار بار ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ آدمی کو قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر فیصلہ لینا پڑتا ہے۔ جب تنگ نظری کے بجائے وسعتِ نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کوتاہ بینی کی جگہ دور بینی کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔ جب اس عالی حوصلگی کی ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی چھوٹے مقاصد کو نظر انداز کر کے بڑے مقصد کے لیے آگے بڑھ جائے۔

ایک سچا مومن ایسے مواقع پر سب سے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہوتا ہے۔ مومن کا آفاقی مزاج اُس کو اس سے بچاتا ہے کہ وہ چھوٹی باتوں میں اس طرح الجھے کہ بڑی بات کو وہ کھودے۔ اس کی نگاہ ہمیشہ اعلیٰ مقاصد پر ہوتی ہے۔ اور جس انسان کی نظر اعلیٰ مقاصد پر ہو وہ کبھی چھوٹی باتوں میں الجھ کر اپنا راستہ کھوٹا نہیں کر سکتا۔

زندگی کے تمام فیصلوں میں اصل اہمیت مزاج کی ہے۔ صحیح مزاج کے لوگ صحیح فیصلہ لیتے ہیں اور غلط مزاج کے لوگ غلط فیصلہ کرتے ہیں۔ ایمان کسی آدمی کے اندر سب سے زیادہ صحیح مزاج بناتا ہے۔ ایمان آدمی کو صحیح ترین طرز پر سوچنے والا بنا دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1993 All issues

Printed page