اپنے اوپر فتح
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۵۶
اپنے اوپر فتح
ایڈمنڈ ہلری (Edmud Hillary) ۲ جولائی ۱۹۱۹ کو نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں پیوا ہوا۔ اس کو پہاڑوں پر چڑھنے کا شوق تھا۔ پہلے وہ اپنے ملک کے پہاڑوں پر چڑھائی کیا کرتا تھا۔ اس نے پہلی بار ۱۹۵۱ میں ایک ٹیم کے ساتھ ہمالیہ کی چوٹی ایورسٹ پر چڑھنے کی کوشش کی جو ۲۹۰۲۸ فٹ اونچی ہے۔ پہلی بار اس کو کامیابی نہیں ہوئی ۔ دوسری بار وہ ۱۹۵۳ میں ایک برٹش ٹیم کے ساتھ ایورسٹ پر چڑھائی کے لیے روانہ ہوا۔ اس بار اس نے ایک نیپالی تنزنگ نارگے کو بطور رہنما ساتھ لیا۔ ۲۹ مئی ۱۹۵۳ کو وہ ایورسٹ کی بلندی پر پہنچ گیا ، وہ پہلا انسان تھا جس نے دنیا کی سب سے بلند چوٹی پر اپنا قدم رکھا۔ چنانچہ فورا ہی وہ ساری دنیا میں مشہور ہو گیا۔ برطانی حکومت نے ۱۶ جولائی کو اسے سر کا خطاب دیا۔ اس نے اپنی پہاڑی مہم پر ایک کتاب لکھی جو ۱۹۵۵ میں ہائی ایڈونچر (High Adventure) کے نام سے شائع ہوئی۔
سر ایڈمنڈ ہلری نے اپنی کتاب میں جو باتیں لکھی ہیں ان میں سے ایک سبق کی بات یہ ہے کہ ہم پہاڑ کو فتح نہیں کرتے ہیں، بلکہ ہم خود اپنے آپ کو فتح کرتے ہیں : It is not the mountain we conquer but ourselves. یہ ایک سادہ سی بات ہے مگر وہ بے حد اہم بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر فتح دراصل اپنے آپ پر فتح پانے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ہر فتح سب سے پہلے یہ چاہتی ہے کہ اس کے لیے ضروری جدوجہد کی جائے۔ گویا کہ آدمی کو سب سے پہلے اپنے آپ کو جدوجہد کا اہل ثابت کرنا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی اس دنیا میں وہ اس کا اہل قرار پاتا ہے کہ اس کو فتح د کامیابی کا مقام عطا کیا جائے۔
خواہ پہاڑ پر چڑھنا ہو یا اور کوئی کامیابی حاصل کرنا ہو، آدمی کو سب سے پہلے محنت اور مشقت کے امتحان میں پاس ہونا پڑتا ہے۔ اس کو یہ ثبوت دینا پڑتا ہے کہ وہ صبر اور برداشت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس دن آدمی اپنے اندر ضروری اہلیت کا ثبوت دے دیتا ہے اس کے اگلے دن دنیا دیکھتی ہے کہ وہ کامیابی کی بلند چوٹی پر فاتحانہ کھڑا ہوا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues