ایک ملاقات
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۶۲
ایک ملاقات
۲۹ نومبر ۱۹۹۲ء کو دہلی میں ڈاکٹر محمد عالم (پیدائش ۱۹۳۵) سے ملاقات ہوئی۔ وہ اعظم گڑھ (چکیا) کے رہنے والے ہیں اور تبلیغی جماعت سے جڑے ہوئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ گو دھرا (گجرات) میں پہلا تبلیغی اجتماع ۱۹۷۸ء میں ہوا۔ اس میں انھوں نے شرکت کی۔ واپسی میں وہ گونڈہ آئے۔ یہاں سے بس کے ذریعہ اجودھیا پہنچے۔ اجودھیا میں بس نے گھاگھراندی کے کنارے اتارا۔ یہاں سے پیدل چل کر اس کا لمبا پل پار کیا۔ پھر پیدل چلتے ہوئے اجودھیا شہر میں داخل ہوئے۔ اس وقت ان کو سخت پیاس لگی ہوئی تھی۔ سڑک پر ایک دکان کے سامنے کھڑے ہو کر وہ ادھر ادھر دیکھنے لگے کہ کہیں کوئی مسلمان دکھائی دے تو اس سے ملیں، مگر اس وقت میلا تھا اور ہر طرف ہندو ہی ہندو دکھائی دے رہے تھے۔
وہ دکان کے سامنے کھڑے تھے کہ اندر سے ایک ہندو نوجوان جو کہ پنڈا تھا، باہر آیا۔ اس نے کہا کہ مولوی صاحب، آپ کو کس چیز کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عالم صاحب نے کہا کہ اس وقت میری تین ضرورت ہے۔ مجھے استنجاء کرنا ہے۔ مجھے پیاس لگ رہی ہے اس لیے پانی پینا ہے، اور پھر مجھے ظہر کی نماز پڑھنا ہے۔ اس نے کہا کہ میرے ساتھ آئیے۔ اس نے ڈاکٹر عالم کا بستر اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ پھر پانی دے کر انہیں لے جا کر استنجا خانہ پہنچایا۔ وہ فارغ ہو چکے تو وہ ان کو اپنے منڈپ میں لے گیا۔ کمبل بچھاکر انہیں بٹھایا اور ان کو ٹھنڈا پانی اور ربوڑی پیش کیا۔ اور کہا کہ اس کو کھا کرپانی پیجئے۔ اس کے بعد اس نے وضو کا پانی دیا اور صاف کپڑا بچھا کر کہا کہ یہاں آپ نماز پڑھ لیں۔ ڈاکٹر عالم صاحب جب نماز پڑھ چکے تو نوجوان پنڈانے کہا کہ اب آپ چاہیں تو یہاں آرام کرلیں۔ ڈاکٹر عالم صاحب نے کہا کہ نہیں، اب مجھے ریلوے اسٹیشن پہنچ کر اعظم گڑھ کی ٹرین پکڑنا ہے۔ اس کے بعد نوجوان پنڈانے ڈاکٹر عالم صاحب کا بستر اٹھایا اور ان کو لے جاکر تانگہ اسٹینڈ تک پہنچایا۔ اور کہا کہ اب آپ تانگہ سے اسٹیشن جا سکتے ہیں۔
انسان کی سطح پر ہر آدمی ویسا ہی ہے جیسا کہ مذکورہ ہندو نوجوان۔ مگر جب آپ انسان کی سطح سے ہٹ جائیں تو دوسرا آدمی بھی انسان کی سطح سے ہٹ جائے گا۔
||
‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues