ACPs study Bhiwandi's technique of peace
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۲
بینک کی بلڈنگ میں داخل ہوئے تو سوامی چندا نند نے گیٹ کے چوکی دار سے ٹیلی فون کی بابت پوچھا۔ اس نے بہت رکھائی کے ساتھ جواب دیا اور کہا کہ باہر پبلک ٹیلی فون لگا ہوا ہے۔ سوامی جی نے کہا کہ چوکی دار کو چھوڑئے۔ اندر چل کر دیکھتے ہیں۔ اتنے میں ایک شخص اسکوٹر سے وہاں آگیا۔ چوکی دار نے کہا کہ یہ ہمارے افسر ہیں اور ان کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
آنے والا ہم لوگوں کو دیکھ کر خود ہی اسکوٹر سے اتر گیا اور نرمی کے ساتھ بولا : میں آپ لوگوں کی کیا سیوا کر سکتا ہوں۔ جب اس کو معلوم ہوا کہ ہم ٹیلی فون کرنا چاہتے ہیں تو فوراً اس نے کہا کہ آپ ہم کو اپنا نمبر دیجئے ۔ میں خود ان کو ٹیلی فون کر کے بتا دیتا ہوں۔
یہی طریقہ ہر معاملہ میں درست ہے۔ نیچے کے لوگوں سے کبھی نہیں الجھنا چاہئے۔ ہمیشہ اوپر کے لوگوں سے ربط قائم کرنا چاہئے ۔ کسی معاملہ کو حل کرنے کا یہی صحیح طریقہ ہے۔ ۱۵ دسمبر کی شام کو ہم لوگ پونہ پہنچ گئے۔ رات یہاں گزاری گئی۔ پونہ ایک تاریخی شہر ہے۔ ۱۹۴۶ میں مہاتما گاندھی کچھ دنوں کے لئے پونہ میں ٹھہرے تھے۔ یہاں وہ ڈاکٹر دن شاہ مہتا کے زیر علاج تھے جو پونہ میں ایک کلینک (nature-cure clinic) چلا رہے تھے۔ مہاتما گاندھی کے سوانح نگار لوئی فشر (Louis Fischer) نے جولائی ۱۹۴۷ میں ان سے پونہ میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران مہاتما گاندھی نے احمد آباد میں ہونے والے ہندومسلم فساد کا ذکر کیا۔ مہاتما گاندھی نے کہا کہ اصل مشکل یہ ہے کہ ایک فریق چھرا مارنا اور قتل کرنا شروع کرتا ہے۔ اور پھر دوسرا فریق بھی ایسا ہی کرنے لگتا ہے۔ اگر دوسرا فریق اپنی اموات پر انتقامی کارروائی نہ کرے تو اس قسم کی چیز رک جائے گی:
The trouble is that one side begins stabbing and killing and then the other does likewise. If one side did not avenge its deaths the thing would stop (p. 424). بظاہر یہ بہت مشکل ہے۔ مگر اس مسئلہ کا یہی واحد حل ہے، اس کے سوا اور کوئی اس مسئلہ کا حل نہیں۔ خواہ ہندوستان ہو یا اور کوئی ملک ہو۔ جب بھی ایک فریق کی طرف سے اشتعال انگیزی یا تشدد کا کوئی واقعہ ہو تو دوسرے فریق کو برداشت کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اس کو روکنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ غلطی کو انتقام کا مسئلہ بنانا غلطی کو بڑھاتا ہے۔ غلطی کو عفو و درگزر کا مسئلہ بنانا
‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues