ACPs study Bhiwandi's technique of peace
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۴
ساتھ رہنا ہے۔ تاکہ ایک طرف شانتی یا تر ا کے پروگراموں میں مکمل شرکت ہو اور اسی کے ساتھ ہر ازلان وطن سے قریبی تعارف بھی ہو سکے۔ چنانچہ یہ پورا سفر اسی طرح گزرا۔
۱۶ دسمبر ۱۹۹۲ کی صبح کو پونہ سے شانتی یا ترا شروع ہوئی۔ سامنے ایک جیپ میں شانتی گیت کی ریکار ڈنگ چل رہی تھی۔ پیچھے ہماری کاروں کا قافلہ تھا یہی صورت آخر تک جاری رہی جیپ سے جو گیت نشر ہو رہا تھا وہ بڑا اثر انگیز تھا۔ گیت کا ایک شعر یہ تھا: یدمنی بھلا کسی سے کرنا نہ سکو تو برا کسی سے مت کرنا ایک اور گیت کے کچھ شعر یہ تھے:
آشا کی دیپک جلنے دو ٹوٹے ہوئے دل کو جڑنے دو سب کو اک راہ دکھانا ہے بادھائیں دور ہٹانا ہے اتہاس کے پنے لکھنے دو گنگا جمنا کو ملنے دو آخری شعر سن کر میرے دل کی عجیب کیفیت ہو گئی۔ ایسا محسوس ہوا کہ وہ بات گیت بن کر سڑکوں پر گونج رہی ہے جس کو سوامی ویویکا نند نے سو سال پہلے کہا تھا کہ میں اپنے مستقبل کی آنکھ سے دیکھ رہا ہوں کہ اسلام باڈی اور ہند و برین دونوں مل کر نئے شاندار انڈیا کی تعمیر کر رہے ہیں۔ دل میں یہ تمنا ابھری کہ گنگا اور جمنا کے یہ دھارے ایک ہو کر کاش ایک بڑا سیلاب بن سکیں۔ یہ شانتی یا ترا جگہ جگہ سے گزرتی ہوئی ۱۵ دسمبر سے ۲۱ دسمبر تک جاری رہی۔ وہ پونہ سے شروع ہوئی پھر چا کن، منچر، سنگم نیر، ارادھنا، نیر،ارادھنا،ادیان،ناندگاؤں،مالیگاؤں،شری ناندگاؤں، مالیگاؤں، شری رام پور، نواسا، اورنگ آباد، جالنہ، بیٹر، عثمان آباد، لاتور، احمد پور، ناندیڑ پر بھنی، ہنگولی، آکولہ، امراوتی، سیوا گرام، وردھا، ناگپور پہنچی۔ ناگپور اس یاترا کا آخری مقام تھا۔ ۱۵ دسمبر ۱۹۹۲ کو پونہ سے شانتی یاترا شروع ہوئی۔ اور ۲۰ اکتوبر کو ناگپور میں ختم ہوئی۔ ہر جگہ ٹیلی فون کے ذریعہ پیشگی طور پر تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے تھے۔ اس علاقہ میں تناؤ کی وجہ سے جلسہ جلوس بالکل ممنوع ہے۔ مگر پونہ کے مسٹر شانتی لال موتھا کے اثر و رسوخ اور ان کی کوششوں سے ہر جگہ کے لئے اجازت حاصل ہوگئی۔ اور یہ سب کچھ صرف چند دنوں میں انجام پایا۔ طریقہ یہ تھا کہ بستی میں داخل ہو کر پہلے ایک گھنٹہ یا دو گھنٹہ تک پیدل سفر پر یا ترا کی جاتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues