ACPs study Bhiwandi's technique of peace
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۷
نے ۱۹۲۵ میں سکھ گوردوارہ ایکٹ پاس کیا۔ اس کے تحت تمام گوردوارے دوبارہ سکھوں کو واپس مل گئے۔ (IV/805)
یہی قصہ ایک اور شکل میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا۔ برٹش دور میں مسلمانوں کی بہت سی مسجدیں اور مقبرے وغیرہ آرکیالوجی کے قبضہ میں چلے گئے۔ مگر مسلم رہنما انگریزوں کے خلاف سیاسی لڑائی لڑنے میں اتنا زیادہ مشغول ہوئے کہ ان کو یاد نہ رہا کہ کثیر تعداد میں مسجدیں اور دوسرے بڑے بڑے مسلم مقامات آثار قدیمہ کے قانون کے تحت سرکاری قبضہ میں چلے گئے ہیں۔ انھوں نے اس سلسلہ میں واگزاری کی کوشش نہ کی۔ یہاں تک کہ ملک آزاد ہو گیا۔ آزادی کے بعد جو نئے حالات پیدا ہوئے، اس نے مسلمانوں کے لئے اس معاملہ میں مزید شدید تر مسائل پیدا کر دئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ انتہائی قیمتی جگہیں بدستور سرکار کے محکمہ آثار قدیمہ کے قبضہ میں باقی رہ گئیں۔
۲۰ دسمبر کو ساڑھے دس بجے ہم پربھنی میں داخل ہوئے۔ شانتی یاترا یہاں کی سڑکوں پر گزرتی ہوئی ایک مقام پر پہنچی۔ یہاں کافی بڑا جلسہ ہوا۔ اس موقع پر ہماری پارٹی کے مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔
ٹائمس آف انڈیا (۱۹ دسمبر ۱۹۹۲) میں درمیانی صفحہ پر ایک مضمون تھا۔ اس کا عنوان تھا : The Disorientation Goes on اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ انڈیا میں اصل مسئلہ رخ سے بے رخ ہونے (disorientation) کا ہے۔ یہاں ہمارے لئے عمل کا رخ بگڑ گیا ہے۔ میں نے اس عنوان کو لے کر تقریر کی۔ میں نے کہا کہ اصل واقعہ یہی ہے کہ ۱۹۴۷ کے بعد ہمیں جس رخ پر اپنی کوششوں کو جاری کرنا چاہئے تھا، اس رخ پر ہم اپنی کوششوں کو جاری نہ کر سکے۔ اس لئے ہماری تمام کوششیں بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں۔ آزادی کے بعد ہر ایک نے یہ کیا کہ دوسروں سے وہ اپنے جھگڑے نپٹانے میں لگ گیا۔ مثلاً اپنی زبان کو منوانا اور لسانی اسٹیٹ بنانا۔ اپنے مذہبی قانون کو منوانا اور اپنے لئے علیحدہ قانون بنوانا۔ اپنے تشخص کا مطالبہ لے کر اٹھنا اور دوسروں سے اس بات پر لڑنا کہ ہمارا تشخص بحال کرو۔ یہ سب کوششوں کے غلط رخ تھے۔ اصل رخ صرف ایک تھا، اور وہ تعلیم تھا۔ اگر ۱۹۴۷ کے بعد
‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues