صبح کا انتظار
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۱
صبح کا انتظار
ہر شام کے بعد دوبارہ نئی صبح آتی ہے۔ مگر صبح کو پانے والا صرف وہ شخص ہے جو صبح کے آنے تک اس کا انتظار کرے ۔ اس دنیا میں روشن صبح اپنے آپ آتی ہے۔ مگر انتظار کرنے والے اس کا انتظار نہیں کرتے۔
انسان کی سب سے بڑی کمزوری عجلت پسندی ہے۔ وہ تاریک حالات کو دیکھ کر گھبرا اٹھتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ دنیا میں رات اور دن کا نظام ہر روز اس کو سبق دے رہا ہے کہ روشنی بہرحال آئے گی، کوئی تاریکی اتنی لمبی نہیں ہو سکتی جو آنے والی روشن صبح کو آنے سے روک دے ۔
دنیا میں تلخیاں بھی ہیں۔ لیکن تلخیوں کو اگر سہہ لیا جائے تو اس کے بعد مٹھاس بھی ضرور رہ رہتی ہے۔ یہاں آدمی نا کامیوں سے بھی دوچار ہوتا ہے، لیکن ہر نا کامی وقتی ناکامی ہے۔ اگر وقتی ناکامی کی چوٹ برداشت کر لی جائے تو اس کے بعد لازماً وہ مرحلہ آتا ہے جو آدمی کو کامیابی کی منزل پر پہنچا دے۔
موجودہ دنیا میں کسی چیز کو ٹھہراؤ نہیں۔ اسی طرح یہاں کامیابی اور ناکامی کو بھی ٹھہراؤ نہیں۔ یہاں ہر نا کامی کے بعد کامیابی ہے، اور ہر کامیابی کے بعد ناکامی۔ اس لئے آدمی کو چاہئے کہ کامیابی پیش آئے تب بھی وہ اعتدال پر قائم رہے ، اور ناکامی کا تجربہ ہو تب بھی وہ اعتدال اور توازن کو نہ کھوئے۔
جس طرح صبح اپنے آپ آتی ہے، اسی طرح اس دنیا میں ناکامی کے بعد کامیابی بھی اپنے آپ آتی ہے۔ آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ انتظار کی ہمت کر سکے۔ اس دنیا میں ہر ناکامی ایک وقتی وقفہ ہے اور ہر کامیابی آئندہ ظاہر ہونے والا لازمی واقعہ۔
جس طرح شام کا آنا یقینی ہے اسی طرح شام کے بعد صبح کا ظاہر ہو نا بھی یقینی ہے۔ ایک ایسی دنیا میں مایوسی کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ کائنات کا پورا نظام جس کے ساتھ ہو اس کو کسی اور سے ہمیشہ کرنے کی کیا ضرورت۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues